زلمے خلیل زاد چین میں | حالات حاضرہ | DW | 11.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

زلمے خلیل زاد چین میں

امریکا اور چین بڑے تجارتی حریف ہیں لیکن افغانستان میں جنگ بندی کے لیے دونوں مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد چین میں حکام سے بات چیت کے لیے بیجنگ پہنچے ہیں۔ بیجنگ میں امریکی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے ان کے دورے کی خبر تو دی لیکن مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

تاہم خیال ہے کہ دونوں طرف کے حکام افغانستان میں قیام امن کے لیے قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

اس ہفتے قطر میں امریکا، طالبان اور افغان نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد فریقین پرامید نظر آئے کہ افغانستان میں اٹھارہ برس سے جاری جنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق انہیں امید ہے کہ یکم ستمبر تک مذاکرات میں اس حد تک پیش رفت ہو جائے گی کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ممکن ہو سکے۔

Katar Doha Afghanistan Friedensgespräche

افغان طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادر ماسکو میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے

چین حالیہ برسوں میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت افغانستان کی دیگر اہم شخصیات چین میں حکام سے ملاقاتیں بھی کرتی رہیں ہیں۔ جون میں چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ ملا برادر سمیت قطر میں طالبان قیادت کے سینیئر ارکان بھی چین کے دورے کر چکے ہیں۔

 افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے چین کی دو بڑی ترجیحات سمجھی جاتی ہیں: اپنے سرحدی علاقوں میں مسلح اسلامی تنظیموں کا مقابلہ اور افغانستان کی معدنی دولت تک چینی کمپنیوں کی رسائی۔ مبصرین کے مطابق افغانستان کی موجودہ حکومت ہو یا پھر طالبان، امریکا کی طرح چین بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔  

ش ج / ش ح (اے پی)

DW.COM