زلزلہ زدگان کی امداد کے کاموں میں شدید دشواریاں | حالات حاضرہ | DW | 28.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلزلہ زدگان کی امداد کے کاموں میں شدید دشواریاں

افغانستان اور پاکستان میں آنے والے تباہ کُن زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 370 تک پہنچ گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے دور افتادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کو کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

سنگلاخ پہاڑی علاقے، ناہموار زمین، منقطع مواصلاتی نظام، بے سروسامان متاثرین، بھوک و پیاس اور انہیں سردی سے بچانے کا انتظام۔ یہ سب کچھ امدادی کارکنوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ پیر کو آنے والا زلزلہ ریکٹر اسکیل پر 7.5 شدت کا تھا، جس کے نتیجے میں ایک طرف عمارتیں تباہ ہوئی تو دوسری جانب زیر زمین تہوں کی حرکت نےبالائے زمین چٹانوں کو کمزور کردیا اور پتھریلی چٹانوں کے ساتھ مٹی کے تودوں سے بھی علاقے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جہاں انہیں سخت سردی کا سامنا ہے۔ اب چند علاقوں میں برفباری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

Pakistan Erdbeben

لاتعداد مکان منہدم ہو گئے ہیں

شانگلا کے علاقے میں زلزلے کا متاثر ایک 24 سالہ شخص جمیل خان کہتا ہے،’’ کوئی بھی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا۔ ہم کُھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ کل تیز بارش ہوئی مگر ہماری مدد کے لیے کوئی نہیں آیا‘‘۔ شانگلا زلزلے سے سب زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

اُدھر پاکستان میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 255 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1700 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ زلزلے سے بہت سے ایسے دور افتادہ مقامات بھی متاثر ہیں جہاں امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ امدادی ورکرز کے مطابق بہت سے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے اور ان علاقوں میں منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے اور مٹی کے تودوں تلے دبے زندہ افراد کو نکالنے کی کوششوں میں بچے اور معمر افراد بھی شامل ہیں۔ ایسے کئی علاقوں تک امدادی کارکُن ابھی تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

شانگلا کا ایک اور رہائشی 60 سالہ حکیم خان کہتا ہے،’’ ہمارا سب کچھ برباد ہو چُکا ہے‘‘۔ حکیم خان نے بتایا کے ملبوں کے نیچے سے اُن لوگوں کو صرف ایک بچے کی لاش ملی ہے۔

Pakistan Erdbeben Zerstörung in Mingaora

ملبوں میں دبے ہوئے انسانوں کو نکالنے کا کام بہت دشوار ہے

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے منگل کو زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخواہ کا دورہ کیا تھا اور اپنے ایک خطاب میں نواز شریف نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

افغان حکام کے مطابق اُن کے ملک میں زلزلے کے نتیجے میں 115 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چُکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے 34 صوبوں میں سے قریب نصف درجن میں زلزلے کی وجہ سے بڑی تعداد میں باشندوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

DW.COM