ریو اولمکپس میں روسی کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک | معاشرہ | DW | 10.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ریو اولمکپس میں روسی کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک

روس منظم انداز میں ڈوپنگ کے الزامات کے بعد روسی ایتھلیٹس کی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت خطرہ میں پڑتی جا رہی ہے۔ انسداد ڈوپنگ کے آزاد کمیشن ’ واڈا‘ نے روسی ایتھلیٹس پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی ہے۔

انسداد ڈوپنگ کے آزاد کمیشن ’ واڈا‘ نے کاکردگی بڑھانے کی ممنوعہ ادویات کے استعمال کے حوالے سے روس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کمیشن نے اپنی تین سو صفحات پر مبنی یہ رپورٹ جنیوا میں جاری کی اوراس میں تصدیق کی گئی ہے کہ روس کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں ا ور ٹیموں کی کارکردگی بڑھانے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لیے ممنوعہ ادویات کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دھوکہ دہی کے اس کام میں ٹیم کے نمائندے، کھلاڑی اور ان کے آفیشلز بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں آڈیو اور ویڈیو ثبوت اکھٹے کیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روسی حکام نے ایتھلیٹس کی صحت کو اجتماعی طور پر نظر انداز کیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ روس کی وزارت کھیل نے اس مجرمانہ سرگرمی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے حوالے سے سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوو نے واڈا کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ’’جب کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو اس سے متعلق شواہد بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اور کسی بے بنیاد اور بے سبب الزام پر تو ردعمل ظاہر کرنا بھی مشکل ہوتا ہے‘‘۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹک فیڈریشنز کے صدر سیباستیان کوو نے روسی ایتھلیٹکس فیڈریشن سے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک اس سلسلے میں وضاحت پیش کرے ورنہ ممنکہ پابندی کے لیے تیار رہے۔

اسی وجہ سے اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے پینل نے لائٹ ایتھلیٹک کے بین الاقوامی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی کھلاڑیوں کو ریو اولمپکس میں حصہ نہ لینے دے۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں 2016ء میں اولمکپس مقابلے منعقد ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں آٹھ سو میٹر دوڑ کی اولمپک چیمپئن ماریا ساوینووا سمیت پانچ کھلاڑیوں اور پانچ آفیشلز پر تا عمر پابندی لگانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو کی اینٹی ڈوپنگ لیبارٹری کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی، جسے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے تسلیم کر لیا ہے۔

اشتہار