ریفرنڈم کی پیشکش تاخیری حربہ ہے، مصری مظاہرین | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ریفرنڈم کی پیشکش تاخیری حربہ ہے، مصری مظاہرین

مصر میں جاری مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کرنےکے لیے فوجی حکمران نے کہا ہےکہ صدارتی انتخابات آئندہ برس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے اقتدار کی فوری منتقلی کےعوامی مطالبے پر ریفرنڈم کی پیشکش بھی کی۔

default

اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب التحریر اسکوائر پرایک لاکھ مظاہرین ہوئے

فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ فوجی قیادت نے سول کابینہ کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ مصر میں گزشتہ ویک اینڈ سے جاری عوامی مظاہروں کے تناظر میں وضاحت کرتے ہوئے طنطاوی نےکہا کہ سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز SCAF ملکی اقتدار پر قبضہ کرنےکی خواہش نہیں رکھتی ہے، ’ہم عوامی امنگوں کے مطابق اقتدار جلد از جلد سول حکومت کے سپرد کرنےکو تیار ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے اگر عوام چاہتی ہے تو ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے۔ تاہم مظاہرین نے ریفرنڈم کو ایک تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں تک سابق صدر حسنی مبارک کے وزیر دفاع رہ چکنے والے طنطاوی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم عصام شرف کا استفعیٰ منظور کر لیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ جب تک نئی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی، وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے رہیں۔

مصری عوام طنطاوی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ملک کو جمہوریت کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے فوج کی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ مستعفی ہو جانے کے مطالبات کا سامنا کرنے والے طنطاوی نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابات اٹھائیس نومبر کو ہی منعقد کیے جائیں گے ۔ عوامی مطالبات کو منظور کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی صدر کا انتخاب آئندہ برس جون میں کر لیا جائے گا۔

دوسری طرف دارالحکومت قاہرہ کے انقلابی التحریر اسکوائر پر مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ رات وہاں ایک لاکھ افراد نے فوجی کونسل کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں شریک پچاس سالہ ابتصام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’کئی مہینوں سے فوجی قیادت نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے لیکن اس نے ابھی تک کچھ نہیں کیا، اس لیے اب اس کونسل کے سربراہ کو مستعفی ہو جانا چاہیے‘۔

احمد ممدوع نامی ایک اور نوجوان نے کہا، ’طنطاوی، مبارک ہے۔ وہ فوجی وردی میں ملبوس حسنی مبارک ہے‘۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بھی التحریر اسکوائر پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین تصادم ہوا، لیکن مظاہرین بدستور اس تاریخی اسکوائر پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔

Flash-Galerie Ägypten Kairo Tahrir Platz Demonstration

مظاہرین بضد ہیں کہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں

صدراتی انتخابات کے ممکنہ امیدوار محمد البرادئی نےسکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے ناجائز استعمال پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ قتل عام کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ان نئے مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم 36 افراد ہلاک جبکہ بارہ سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین نے مصر کی موجودہ بحرانی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوجی کونسل سے کہا ہے کہ عوام کے خلاف کریک ڈاؤن ترک کیا جائے اور مذاکرات سے اس معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار