ریاضی اور سائنس میں لڑکیاں لڑکوں سے کم نہیں، مگر دقیانوسی سوچ رکاوٹ | معاشرہ | DW | 08.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ریاضی اور سائنس میں لڑکیاں لڑکوں سے کم نہیں، مگر دقیانوسی سوچ رکاوٹ

يونیسکو نے اپنی ايک تازہ رپورٹ میں انکشاف کيا ہے کہ لڑکیاں ریاضی اور سائنس جیسے مضامین میں لڑکوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ لیکن سماج کی قدامت پسند سوچ ان کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔

یونیسکو نے اپنی ايک تازہ رپورٹ میں اس مفروضے کو غلط قرار دیا ہے کہ لڑکیاں ریاضی میں لڑکوں سے کم تر ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے تعلیم کی عالمی صورت حال کے حوالے سے حال ہی میں اپنی تازہ رپورٹ شائع کی۔Deepening the debate on those still left behind, an annual UNESCO gender report  کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اسکولوں میں لڑکیاں ریاضی کے مضمون میں لڑکوں کی طرح ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ابھی ان کی راہ ميں بہت ساری رکاوٹیں موجود ہیں جو انہیں آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں۔

یونیسکو نے اپنی یہ رپورٹ 120ملکوں میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں کرائے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالانکہ ابتدائی برسوں میں ریاضی کے معاملے میں لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ خلیج سیکنڈری سطح پر ختم ہو جاتی ہے۔حتیٰ کہ دنیا کے سب سے کمزور اور پسماندہ ملکوں میں بھی لڑکیوں نے اس معاملے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ بعض ملکوں میں تو صورت حال اس کے برعکس ہے۔ مثلاً ملیشیا میں 14برس کی عمر (آٹھویں درجے) میں لڑکیوں کی کارکردگی لڑکوں کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ بہتر تھی۔ جبکہ کمبوڈیا میں یہ بہتری 3 فیصد اور فلپائن میں 1.4 فیصد تھی۔حتیٰ کہ کانگو میں بھی لڑکیوں کی کارکردگی لڑکوں کے مقابلے میں 1.7 فیصد بہتر تھی۔

تعصب اور دقیانوسی سوچ سب سے بڑی رکاوٹيں

یونیسکو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالانکہ لڑکیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے ساتھ تعصب ہوتا ہے اور قدامت پسند سوچ ایک عرصے سے لڑکیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپر پرائمری اور سیکنڈری درجات میں ریاضی میں بہتر کارکردگی کرنے کے باوجود ریاضی کی اعلی تعلیم میں لڑکے لڑکیوں سے آگے ہیں۔ یہ صورت حال دنیا کے تمام ملکوں میں ہے۔

سائنس کے مضمون میں بھی یہی صورت حال ہے۔سیکنڈری اسکولوں میں تو لڑکیاں سائنس کے مضامین میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سائنس، ٹيکنالوجی، انجینيئرنگ اور میتھ میٹکس (STEM)کے شعبوں میں لڑکیو ں کے لیے کیریئر بنانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کو درپیش سماجی رکاوٹیں ہیں۔

ریڈنگ میں بھی لڑکیاں لڑکوں سے آگے

یونیسکو کی اس رپورٹ کے مطابق لڑکیاں صرف ریاضی اورسائنس میں ہی لڑکوں سے بہتر نہیں ہیں بلکہ وہ مطالعہ (Reading) میں بھی لڑکوں کو مات دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پرائمری تعلیم میں سب سے زیادہ فرق سعودی عرب میں ہے۔ جہاں گریڈ فور میں ریڈنگ میں مہارت حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تناسب 77 فیصد ہے جب کہ لڑکوں کا اس سے کم ہے۔اسی طرح تھائی لینڈ میں بھی ریڈنگ کے معاملے میں لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے 18 پوائنٹ آگے ہیں جب کہ ڈومنیک جمہوریہ میں یہ 11 پوائنٹ اور مراکش میں لڑکوں کے مقابلے 10پوائنٹ زیادہ ہے۔حتی کہ لتھوانیا اور ناروے جیسے ان ممالک میں جہاں ابتدائی گریڈ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ریڈنگ کی سطح برابر تھی 15 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے لڑکیوں نے لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یونیسکوکے گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کے ڈائریکٹر مانوس انٹونینس کا کہنا تھا، ''گو کہ آج لڑکیاں ریڈنگ اور سائنس کے معاملے میں لڑکوں سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور بعض ملکوں ميں انہوں نے ریاضی میں ان پر سبقت بھی حاصل کرلی ہے لیکن ان کے ساتھ روا تعصب اور قدامت پسند سوچ کی وجہ سے ریاضی کی بلندیوں تک پہنچنے کے ان کے امکانات کم ہی ہیں۔"

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا، ''لڑکیاں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اگر انہیں تعلیم کے بہتر مواقع ملیں تو وہ بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔‘‘

DW.COM