’روہنگیا مسلمانوں کو بچاؤ‘، ملائيشیا میں سینکڑوں افراد کا مظاہرہ | مہاجرین کا بحران | DW | 24.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’روہنگیا مسلمانوں کو بچاؤ‘، ملائيشیا میں سینکڑوں افراد کا مظاہرہ

ملائيشیا میں ایک غير سرکاری تنظيم سے تعلق رکھنے والے قریب تین ہزار افراد نے میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف مبینہ ریاستی تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا۔

ملائيشیا کے شمالی شہر سُنگائی پیٹانی میں ہونے والے اس مظاہرے میں میانمار کی راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مبينہ کریک ڈاؤن کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر تحریر تھا کہ رونگیا برادری کی ’نسل کشی‘ روکی جائے۔

’سیو روہنگیا‘ یا ’روہنگیا بچاؤ‘ کی پٹیاں سروں پر باندھے ان افراد نے مسلم ممالک اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈاليں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن فوراﹰ روکے۔

ملائيشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں روہنگیا برادری کے خلاف میانمار کی فوج کے کریک ڈاؤن پر شدید تنقید کی تھی۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس معاملے کی وجہ سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نجیب رزاق روہنگیا برادری کے تحفظ کے لیے سخت بیانات عوامی سطح پر اپنی مقبولیت میں اضافے اور اس معاملے کو آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ملائيشیا میں آئندہ برس انتخابات متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے راکھین ریاست روہنگیا افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں افراد نے بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کی ہے، تاہم بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی سرحدوں پر گشت بڑھا دی ہے اور متعدد واقعات میں ان روہنگیا افراد کو ملک میں داخلے سے روکا گیا ہے۔

اشتہار