روڈیم دھات اس قدر مہنگی کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ | معاشرہ | DW | 24.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

روڈیم دھات اس قدر مہنگی کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

یہ نایاب دھات سونے سے بھی پانچ گنا مہنگی ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ تین ہفتوں میں اس کی قیمت میں تریسٹھ فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ روڈیم استعمال کہاں ہوتی ہے اور اس کی قیمتیں آسمان کو کیوں چھونے لگی ہیں؟

روڈیم کا شمار دنیا کی مہنگی ترین دھاتوں میں ہوتا ہے اور اس کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس نایاب دھات کے ایک اونس کی قیمت تقریباﹰ نو ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ بنیادی طور پر یہ دھات کاروں کے انجنوں میں استعمال ہوتی ہے تاکہ انجن یا موٹر میں سے ضرر رساں گیسوں کا اخراج کم ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دھات کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ جرمنی میں نایاب دھاتوں کا کاروبار کرنے والے ٹوبیاس شیرر کا وال اسٹریٹ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس دھات کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا کیوں کہ اس دھات کی فوری دستیابی کم ہے جبکہ مانگ زیادہ ہے۔

دوسری جانب نجی سرمایہ کاروں کے لیے ابھی تک یہ مشکل ہے کہ وہ روڈیم دھات میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ اس دھات کو امریکی کاروباری ایکسچینج سے بھی نہیں خریدا جا سکتا جبکہ اس دھات کے سکے یا پھر سونے کی طرح  روڈیم اینٹوں کی مارکیٹ بھی انتہائی چھوٹی اور چند ہاتھوں میں ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روڈیم کی سالانہ مانگ تقریبا 22 ٹن ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سونے کی سالانہ مانگ تقریبا 4000 ٹن ہے۔

روڈیم کی پیداوار کے حوالے سے جنوبی افریقہ، روس، زمبابوے اور شمالی امریکا سرفہرست ہیں۔ نایاب دھاتوں کا کاروبار کرنے والی کمپنی ای ایس جی کے مالک ڈومینیک لوخمان کا کہنا ہے کہ اس دھات کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ دنیا میں تحفظ ماحول کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی ہیں۔ ان کے مطابق گاڑیوں سے نکلنے والی ضرر رساں گیسوں کے حوالے سے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں اور اس وجہ سے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیائی ممالک میں بھی انجنوں کا معیار بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

روڈیم دھات براہ راست کانوں سے نہیں نکلتی بلکہ یہ پلاٹینم دھات کی کان کنی کے دوران بطور 'بائی کیچ‘ حاصل کی جاتی ہے۔ جرمن شہر موئنشن گلاڈ باخ میں نایاب دھاتوں کے انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر آرنڈ اولنڈورف کا کہنا ہے کہ روڈیم کی 80 فیصد سے زائد مانگ جنوبی افریقہ اور روس پوری کر رہے ہیں۔ اس دھات کی قیمت میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس دھات کا کاروبار صرف چند ہاتھوں میں ہے۔

روڈیم دھات کی سب سے زیادہ کھپت امریکا، یورپ اور چین میں ہو رہی ہے۔ رواں برس نہ صرف روڈیم بلکہ پلاٹینم اور دیگر نایاب دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔