روس کے ساتھ کشیدگی، یوکرائن میں مارشل لا نافذ ہوسکتا ہے | حالات حاضرہ | DW | 26.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

روس کے ساتھ کشیدگی، یوکرائن میں مارشل لا نافذ ہوسکتا ہے

روس کی طرف سے یوکرائن کے بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کے بعد یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے مارشل لا لگانے کے احکامات پر دستخط کردیے ہیں۔ ادھر برلن حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے آج پیر کے دن سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس نے یوکرائنی بحری جہاز چھوڑنے کے مغربی مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ روسی فوج نے یہ جہاز گزشتہ ہفتے کے آخر میں کریمیا کے نزدیک آبنائے کیرچ سے پکڑ لیے تھے، جس کے بعد ان دونوں ممالک میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گئی۔

اس تازہ صورتحال کی وجہ سے یوکرائنی صدر پیٹروپوروشینکو نے ملک میں مارشل لا نفاذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق پارلیمانی منظوری کے نتیجے میں ساٹھ دن کے لیے مارشل لا کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ روس نے ان جہازوں میں سوار چوبیس یوکرائنی فوجی بھی قید کر لیے ہیں۔ مغربی ممالک نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ ان جہازوں اور ان میں سوار یوکرائنی فوجیوں کو چھوڑ دے۔

ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت یوکرائن اور روس کے مابین پیدا ہونے والی نئی کشیدگی کے خاتمے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ کییف حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ میرکل نے یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

 روس نے مغربی مطالبات کے باوجود یوکرائنی بحری جہازوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ روسی فوج نے ویک اینڈ پر کریمیا کے نزدیک تین یوکرائنی بحری جہازوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ ماسکو کا الزام ہے کہ کییف نے مغربی ممالک کے ایما پر اشتعال انگیزی دکھائی، جس پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔

روسی فوج کے مطابق یوکرائن کے بحری جہاز غیر قانونی طور پر  روسی سمندری حدود میں داخل ہوئے۔ تاہم یوکرائن نے اسے روس کی جارحیت قرار دیا ہے۔

روس نے سن دوہزار چودہ میں یوکرائن کے علاقے کریمیا کو اپنا حصہ بنایا لیا تھا، جس کے بعد ان دونوں ممالک میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم اب پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج براہ راست ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئیں ہیں۔ قبل ازیں یوکرائنی فوجی مشرقی علاقوں میں روس نواز باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔

DW.COM