روس کے ساتھ میزائل معاہدہ، بھارت پر امریکی پابندیوں کا خدشہ | حالات حاضرہ | DW | 03.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

روس کے ساتھ میزائل معاہدہ، بھارت پر امریکی پابندیوں کا خدشہ

امریکا نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ روس سے ایس چار سو طرز کے فضائی دفاعی میزائل نظام خریدنے سے باز رہے۔ روسی صدر پوٹن اسی ہفتے اپنے دورہ بھارت کے دوران پانچ ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

بھارت روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس چار سو طرز کے دفاعی میزائل سسٹم چاہتا ہے تاکہ چین اور اپنے روایتی حریف ملک پاکستان کے خلاف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھ سکے۔ یہ جدید ترین دفاعی میزائل سسٹم انتہائی وسیع رینج تک لڑاکا جنگی طیاروں، حتیٰ کہ اسٹیلتھ بمبار ہوائی جہازوں کو بھی نشانہ بنانے اور انہیں مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماسکو حکومت کے مطابق بھارت اور روس کے مابین پانچ ارب ڈالر مالیت کا یہ دفاعی معاہدہ رواں ہفتے صدر ولادیمیر پوٹن کے دورے کے دوران طے پا جائے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھارت کا دورہ جمعرات چار اکتوبر سے کر رہے ہیں۔

اس بارے میں امریکا نے اب بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ممالک بھی روس کے ساتھ دفاع اور انٹیلیجنس کے شعبوں میں تجارت کریں گے، وہ امریکی قانون کے تحت واشنگٹن کی طرف سے پابندیوں کے زد میں آ سکتے ہیں۔

روس مخالف کاٹسا (سی اے اے ٹی ایس اے) نامی اس امریکی قانون پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اگست میں دستخط کیے تھے۔ یہ قانون روس کی امریکی انتخابات، یوکرائن کے تنازعے اور شام کی خانہ جنگی میں مداخلت کی وجہ سے صدر پوٹن کو سزا دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہم اپنے تمام اتحادیوں اور ساتھیوں سے چاہتے ہیں کہ وہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے روس کے ساتھ ٹرانزیکشنز نہ کریں۔‘‘ اس بیان کے مطابق ایس چار سو طرز کے دفاعی میزائل نظام خریدنے سے بھی امریکی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ ماہ امریکا نے چین پر بھی اس وقت پابندیاں عائد کر دی تھیں، جب بیجنگ حکومت نے روس سے جنگی طیارے اور ایس چار سو طرز کے دفاعی میزائل خریدے تھے۔ امریکا ترکی کے حوالے سے بھی اسی طرح کے خدشات ظاہر کر چکا ہے کیوں کہ نیٹو میں امریکا کا اتحادی ملک ترکی بھی یہی روسی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی میں حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ بھارت کی روس کے ساتھ اس مجوزہ ڈیل کو نظر انداز کر دیں گے۔ سابق سوویت یونین کے دور میں بھارت کا اسّی فیصد اسلحہ روس کا فراہم  کردہ ہوتا تھا لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے نئی دہلی حکومت اب مختلف ممالک سے ہتھیار خرید رہی ہے۔

امریکا کا شمار بھی بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران بھارت امریکا سے تقریباﹰ پندرہ ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔

نئی دہلی کو امید ہے کہ امریکا دنیا میں اسلحے کے بڑے خریداروں میں سے ایک کے طور پر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی کانگریس کے شدید دباؤ کا سامنا بھی ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے۔

ا ا / م م ( نیوز ایجنسیاں)