روس کی طرف سے داعش کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس کی طرف سے داعش کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف عالمی کوششوں کو منظم کرنے کی قرارداد کا مسودہ جمع کروایا ہے۔ ایسی ہی ایک قرارداد رواں برس ستمبر میں سلامتی کونسل میں مسترد ہو گئی تھی۔

روس کی جانب سے سلامتی کونسل میں شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جمع کرائی گئی قرارداد کے مسودے میں مشترکہ عسکری کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں روسی سفیر وٹالی چرکن نے روسی نیوز ایجنسی تاس کو بتایا کہ اِس مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ مختلف ملک اور اُن کی حکومتیں منظم انداز میں عسکری آپریشن میں حصہ دار بنیں تاکہ دہشت گرد تنظیم کے پھیلاؤ کو قابو میں لایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے پیرس حملوں کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے روس کی جانب سے نئی قرارداد سامنے لائی گئی ہے۔ اِس میں روس نے دوطرفہ حکمتِ عملی کو شامل کیا ہے۔ ایک کے تحت جہادی تنظیم کے خلاف منظم انداز میں ملٹری آپریشن جاری رکھا جائے اور دوسرے کے تحت دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد کو دنیا بھر میں سے ڈھونڈ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Putin bei Hollande in Paris

روسی اور فرانس کے صدور

روس نے یہ مسودہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کے اُس اعلان کے بعد جمع کروایا ہے، جس میں انہوں نے سکیورٹی کونسل میں جہادی تنظیم کے خلاف کارروائی کی کسی بھی قرارداد کی حمایت کا عندیہ دیا تھا۔ سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے کے تناظر میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے بدھ 18 نومبر کو کہا تھا کہ سلامتی کونسل ایک ایسا آئینی فورم ہے جو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کو ترجیحی بنیاد پر سامنے لاسکتا ہے۔ اُن کے مطابق اقوام عالم کے لیے’اسلامک اسٹیٹ‘ ایک مشترکہ خطرہ بن کر ابھرا ہے اور اِس خطرے کے تدارک کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور مربوط کوششیں ضروری ہیں۔ لاوروف کے مطابق اِس (اسلامک اسٹیٹ) بُرائی سے نبردآزما ہونے کے لیے اتفاق و اتحاد بنیادی ضرورت ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ روس شام کے صدر بشار الاسد کا زوردار حمایتی ہے۔ ابھی بدھ کے روز روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہا تھا عالمی برادری کو شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کو پسِ پشت رکھ کر جہادیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ لاوروف نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ فوج کے قیام کے حوالے سے بشار لاسد کو منصبِ صدارت سے فارغ کرنے کی شرط غیر منطقی اور ناقبل قبول دکھائی دیتی ہے۔