روسی گورنر ریستوران میں رشوت لیتا ہوا پکڑا گیا | معاشرہ | DW | 24.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی گورنر ریستوران میں رشوت لیتا ہوا پکڑا گیا

روس کے وفاقی علاقے کیروف کا گورنر نیکیتا بیلِخ ایک ریستوران میں رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ روسی دفتر استغاثہ کے مطابق ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ماسکو سے جمعہ چوبیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق روس میں، جو درجنوں جمہوریاؤں اور علاقوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے، کیروف کے علاقے کے گورنر نیکیتا بیلِخ کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جب وہ ملکی دارالحکومت ماسکو کے ایک ریستوران میں ایک شخص سے رشوت وصول کر رہا تھا۔

وفاق روس میں ’تحقیقاتی کمیٹی‘ کہلانے والے ریاستی ادارے کے ایک ترجمان نے آج بتایا کہ اس علاقائی گورنر کے خلاف مقدمے کا کوئی علاقائی یا ملکی سیاسی پس منظر نہیں ہے بلکہ نیکیتا بیلِخ کو ایک عوامی نمائندے کے طور پر بدعنوانی کے ارتکاب کے وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

ماسکو میں روسی ’تحقیقاتی کمیٹی‘ کے ترجمان ولادیمیر مارکِن کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس علاقائی گورنر کے خلاف چار لاکھ یورو یا قریب ساڑھے چار لاکھ امریکی ڈالر کے برابر رقم بطور رشوت وصول کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

روئٹرز نے نیکیتا بیلِخ کی گرفتاری کی ممکنہ سیاسی وجوہات کے بارے میں براہ راست تو کچھ نہیں لکھا تاہم یہ ضرور کہا ہے کہ یہ روسی سیاستدان کریملن پر تنقید کرتا رہا ہے اور ماضی میں ملکی اپوزیشن کی ایک لبرل پارٹی کا سربراہ بھی رہا ہے۔

DW.COM

اشتہار