روسی آئس کریم کمپنی کی اچھوتی، طنزیہ پیشکش: ’چھوٹا اوباما‘ | معاشرہ | DW | 07.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی آئس کریم کمپنی کی اچھوتی، طنزیہ پیشکش: ’چھوٹا اوباما‘

دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے کشیدگی کے شکار باہمی تعلقات پر بہت منفرد انداز میں طنز کرتے ہوئے ایک روسی ڈیری کمپنی نے براؤن چاکلیٹ میں لپٹی ایک نئی آئس کریم متعارف کرائی ہے، جسے ’چھوٹا اوباما‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ماسکو سے ہفتہ سات مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق روسی زبان میں کسی بھی لفظ کے آخری حرف سے پہلے اگر حرف ’ک‘ لگا دیا جائے تو اس کا مطلب ’چھوٹا‘ بن جاتا ہے۔ مثلاﹰ روسی زبان میں پانی کو اگر ’ووڈا‘ کہتے ہیں تو لفظ ’ووڈکا‘ کا مطلب ’چھوٹا پانی‘ یا ’تھوڑا پانی‘ بن جاتا ہے، جو دراصل روس کی انتہائی مشہور اور بہت تیز شراب کا نام ہے۔

اس طرح اس نئی آئس کریم کو تیار کرنے والی روسی ڈیری کمپنی نے امریکی صدر باراک اومابا کے نام کی نسبت سے لیکن قدرے طنزیہ انداز میں اسے ’اوبامکا‘ کا نام دیا ہے۔ روسی زبان میں ’اوباما‘ کے لفظ میں آخر سے پہلے ’ک‘ لگا دینے سے اس آئس کریم Obamka کے نام کا مطلب بنتا ہے، ’’چھوٹا اوباما۔‘‘

روئٹرز نے اس بارے میں لکھا ہے کہ جس طرح ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی متعلقہ روسی کمپنی نے اپنی اس پروڈکٹ کو یہ نام دیا ہے، وہ متعلقہ سرکاری حکام کی طرف سے منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسری طرف ’چھوٹا اوباما‘ کے نام سے ایسی کسی چاکلیٹ آئس کریم کو ایک برانڈ کے طور پر مارکیٹ میں عام صارفین کو فروخت کےلیے پیش کرنے کا ایک ممکنہ مقصد امریکی حکام کو ’زچ کرنا‘ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے بھی قابل غور بات یہ ہے کہ باراک اوباما امریکا کے پہلے سیاہ فام یا افریقی نژاد صدر ہیں اور ان کے صدارتی عہدے کی دوسری اور آخری مدت اگلے سال کے اوائل میں پوری ہو جائے گی۔ اس پس منظر میں ’چھوٹا اوباما‘ دراصل ایک ایسی آئس کریم ہے، جو چاروں طرف سے براؤن چاکلیٹ میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔

اس آئس کریم کی تیار کنندہ کمپنی نے اپنی طنزیہ سوچ کے عملی اظہار کے لیے اور امریکا کے بارے میں بہت سے روسی شہریوں میں پائی جانے والی عمومی سوچ سے کاروباری فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھی کیا ہے کہ اس آئس کریم کی پیکنگ پر ایک نوجوان افریقی لڑکے کی تصویر بھی چھاپی گئی ہے۔

کسی رنگ دار خاکے یا کافی حد تک کسی کارٹون کے کردار کی طرح نظر آنے والے اس نوجوان افریقی لڑکے نے، جو مسکرا رہا ہے اور جس نے خود بھی ایسی ہی ایک آئس کریم اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے، اپنے بائیں کان میں آج کل کے فیشن کے مطابق ایک بالی بھی پہنی ہوئی ہے۔

روئٹرز نے ’چھوٹا اوباما‘ کی مدد سے کاروباری جدت اور اس کے پیچھے کارفرما سیاسی طنز کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں روس اور امریکا کے باہمی تعلقات اس وقت سے اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں، جب 2014 میں روس نے یوکرائن کے جزیرہ نما کریمیا کو اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا۔

اس کے بعد صدر بشار الاسد کی حمایت میں دمشق کے روایتی اتحادی روس کی طرف سے شامی خانہ جنگی میں مسلح فوجی مداخلت بھی امریکا اور مغربی دنیا کو بہت ناخوش کر دینے کا سبب بنی تھی۔

اشتہار