روح کی غذا: کنسرٹ ہال بند ہوئے تو کنسرٹس آن لائن منتقل | فن و ثقافت | DW | 23.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

روح کی غذا: کنسرٹ ہال بند ہوئے تو کنسرٹس آن لائن منتقل

دنیا بھر کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور تھیٹرز اور کنسرٹ ہالز کی بندش کے بعد بہت سے فنکاروں نے انٹرنیٹ کو اپنا اسٹیج بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آن لائن کنسرٹس کا اہتمام کرنا شروع کر دیا ہے۔

کورونا وائرس کے باعث دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ہر قسم کے ثقافتی تفریحی مراکز اس لیے بند کیے جا چکے ہیں کہ ایسے عجائب گھروں، تھیٹرز، کنسرٹ ہالوں اور اوپرا ہاؤسز کا رخ کرنے والے افراد کی وجہ سے کووڈ انیس نامی بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

موقع خوشی کا ہو یا غم کا، انسانی دل و دماغ پر غالب احساس مسرت کا ہو یا خوف کا، موسیقی ہر طرح کے حالات میں انسانوں کی جذباتی تسکین کا سبب بنتی ہے اور اسی لیے روح کی غذا بھی کہلاتی ہے۔

جرمنی میں، جہاں اب تک کورونا وائرس کے چوبیس ہزار کے قریب کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، بہت سے فنکاروں کو کووڈ انیس نامی مہلک مرض کی وجہ سے خود پر عائد ہونے والی سماجی ذمے داری کا بھی احساس تو ہے مگر انہوں نے جرمن معاشرے میں موسیقی سے متعلق سرگرمیوں کے بے موت مر جانے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تھیٹر کے بجائے ڈرائنگ روم سے

اس کا حل ان فنکاروں نے یہ نکالا ہے کہ عجائب گھروں، اوپرا ہاؤسز اور کنسرٹ ہالوں کی بندش کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایسے فنکاروں نے انٹرنیٹ پر کنسرٹ شروع کر دیے ہیں اور وہ بھی بلاقیمت اور آن ڈیمانڈ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ایسے کنسرٹس میں بہت سے معروف فنکار اور فنکارائیں اپنے گھروں کے ڈرائنگ رومز سے شرکت کر رہے ہیں۔

ایسے فنکاروں کی تکنیکی معاونت میں شمالی جرمنی کا نشریاتی ادارہ این ڈی آر بھی پیش پیش ہے، جو انہیں ورچوئل اسٹیج مہیا کر رہا ہے۔ جرمنی میں اپنے اپنے گھروں سے کورونا وائرس کے بحران کے دنوں میں کئی طرح کی موسیقی کے دلدادہ شہریوں کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے فنکاروں اور موسیقاروں میں شمالی جرمنی کے آرٹسٹ سب سے آگے ہیں۔

شہر براؤن شوائگ کے رہنے والے موسیقار آکسیل باسے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم سے اپنی موسیقی انسٹاگرام کے ذریعے لائیو سٹریم کرتے ہیں تو کئی دیگر فنکار عام شائقین کی تفریح کے لیے اپنی رہائش گاہوں سے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سامعین اور ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔

عام شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ترغیب بھی

جرمنی میں بھی چونکہ حکومت نے عام شہریوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت کر رکھی  ہے تاکہ کورونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے، اس لیے انٹرنیٹ پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے فنکار عام لوگوں کو یہ ترغیب بھی دے رہے ہیں کہ انہیں اپنی اور اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے گھروں میں ہی رینا چاہیے۔

شمالی جرمنی کے مختلف شہروں میں رہنے والے فنکاروں یوہانس اوئرڈنگ، میشائیل شُلٹے، ماکس گیزنگر اور کئی دیگر آرٹسٹوں نے اپنے آن لائن کنسرٹس کو ایک ایسے میلے کا نام دے رکھا ہے، جس کے جرمن زبان میں نام کا مطلب ہے: #westayathome-Festival

ہر شام سات بجے ہاؤس کنسرٹ

روسی نژاد جرمن پیانو نواز ایگور لیویٹ بھی ان فنکاروں میں شامل ہیں، جو ہر شام انٹرنیٹ پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹوئٹر پر ان کا کنسرٹ ایک ایسا ہاؤس کنسرٹ ہوتا ہے جو ان تمام شائقین کے لیے ہے جو فی الحال اوپرا ہاؤس یا کسی کنسرٹ ہال میں تو نہیں جا سکتے لیکن جن کی موسیقی کے لیے محبت کم نہیں ہوئی۔

ایگور لیویٹ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایسے ہاؤس کنسرٹس کا اہتمام تب تک کرتے رہیں گے، جب تک کہ موسیقی کے شائقین موجودہ بحرانی حالات میں بہتری کے بعد پھر سے تھیٹرز، اوپرا ہاؤسز اور کنسرٹ ہالوں کا رخ کرنا شروع نہیں کر دیتے۔

 م م  / ع ا

 

DW.COM