روبو کپ: پاکستانی یونیورسٹی کی روبوٹ فٹ بال ٹیم بھی شریک | کھیل | DW | 27.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

روبو کپ: پاکستانی یونیورسٹی کی روبوٹ فٹ بال ٹیم بھی شریک

جرمن شہر لائپزگ میں روبوٹس کے درمیان فٹ بال کے بین الاقوامی مقابلوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ آج سے شروع ہونے والے روبو کپ میں پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اور ٹیکنالوجی کی ایک ٹیم بھی شرکت کر رہی ہے۔

پاکستانی روبوٹس کی ٹیم کے لیے فرانس کے تیار کردہ ایلڈرباران روبوٹکس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ روبو کپ میں تیسری مرتبہ پاکستانی یونیورسٹی کے روبوٹس فٹ بال مقابلوں میں شریک ہوں گے۔ ان روبوٹس کی جرسیوں پر ہلال (کریسنٹ) اور ستارے کے اسٹکر چسپاں ہیں۔ روبوٹس بھی فٹ بال کھیلتے ہوئے فاؤل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر گرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان میں روبوٹس کے ساتھ فٹ بال کھیلنے کی تین ٹیمیں ہیں۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہٴ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے سربراہ ڈاکٹر یاسر ایاز کا کہنا ہے کہ رواں برس کے فیسٹیول میں شرکت کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے جرمنی تک سفر اور قیام کے لیے پندرہ لاکھ مختص کیے ہیں۔ اس رقم کے ذریعے تین طلبا روبو کپ کے فیسٹیول میں شریک ہوئے ہیں جبکہ یونیورسٹی میں اِس خصوصی پراجیکٹ میں کُل دس طلبا شامل تھے۔ ڈاکٹر ایاز کے مطابق اگلے برسوں میں ایسے مقابلے میں شرکت کے لیے وہ اسپانسر کی تلاش میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو اِس مقابلے میں شریک کیا جا سکے۔

Robocup Iran Open 2015 in Teheran

دنیا بھر میں سب سے پہلی روبوٹکس فٹ بال لیگ سن 1993 میں جاپان میں کھیلی گئی تھی

جرمن شہر لائپزگ میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا یہ خصوصی فیسٹیول آج ستائیس جون سے لے کر چار جولائی تک جاری رہے گا۔ روبوٹکس صنعت میں مسابقت کے عمل کو تقویت دینے کے لیے روبوکپ کے فیسٹیول کی بنیاد سن 1997 میں رکھی گئی تھی۔ اس میلے میں روبوٹس کے درمیان ہونے والے فٹ بال مقابلوں کے فاتح کو روبو کپ سے نوازا جاتا ہے۔ اِس فیسٹیول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ رواں صدی کے وسط میں انسانوں جیسے روبوٹس فٹ بال کے نگران ادارے فیفا کے قواعد و ضوابط کے تحت فٹ بال کے ورلڈ کپ میں شریک ہو سکیں۔ گزشتہ برس روبو کپ کے مقابلے چینی شہر ہیفئی میں منعقد کیے گئے تھے۔ سن 2006 میں جرمنی کے ایک دوسرے شہر بریمن میں بھی اِس فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں سب سے پہلی روبوٹکس فٹ بال لیگ سن 1993 میں جاپان میں کھیلی گئی تھی۔ سب سے پہلا روبو کپ بھی جاپان میں منعقد کیا گیا تھا۔

اِس فٹ بال گیم میں شریک ہر روبوٹ میں دو کیمرے نصب ہوتے ہیں۔ ان کیمروں سے تصویر روبوٹ کے اندرونی سسٹم میں داخل ہوتی ہے اور اُس کی تمام حرکات و سکنات اُسی سسٹم کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ ابھی تک کچھ معاملات میں انسانی ہاتھ روبوٹس کی مدد کرتا ہے لیکن میچ کے دوران روبوٹس کی تمام موومنٹ اُس کے اندرونی سسٹم سے پیدا ہوتی ہیں۔

DW.COM