رمضان لطیفے، مسکراہٹ تو اچھی ہوتی ہے | معاشرہ | DW | 20.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

رمضان لطیفے، مسکراہٹ تو اچھی ہوتی ہے

مسلمانوں کے لیے رمضان مقدس ترین مہینہ ہے، جس کا احترام تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے ہیں، مگر ایسا نہیں کہ اس مہینے سے متعلق خصوصی لطیفے دیکھنے کو نہیں ملتے۔

مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان میں زندگی کے کئی معمولات عام حالات کے مقابلے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کی چائے اور پھر رات کا کھانا تبدیل ہو کر سحری اور افطاری تک محدود ہو جاتا ہے۔لیکن اس بار کا رمضان روایتی طور پر منائے جانے والے رمضان کے مہینوں سے نہایت مختلف ہے۔ اس کی وجہ کورونا وائر س کی وبا کی وجہ سے نافذ سماجی پابندیاں ہیں اور جہاں یہ پابندیاں نہیں وہاں بھی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے ملنا جلنا ماضی کی طرز کا نہیں۔

رمضان میں اجتماعی افطار، تروایح کے اجتماعات اور پھر سحری کے بعد منہ اندھیرے نوجوانوں کا گلی محلوں میں مصنوعی روشنی کے درمیان کرکٹ میچز سمیت مختلف طرز کے کھیل تک اس روایت کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن اس بار رمضان چوں کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جاری بندشوں کی نذر ہو گیا، اس لیے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں محدود رہے اور ان کے لیے بیرونی دنیا کی کھڑی، ان کا اسمارٹ فون تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یو ٹیوبرز نے بھی ماضی کے مقابلے میں اس بار رمضان میں کہیں زیادہ ویڈیوز پروڈیوس کیں اور ان میں وہ ویڈیوز بھی شامل تھیں، جن میں ہلکے پھلکے انداز سے رمضان سے جڑی مختلف چیزوں کا موضوع بنایا گیا تھا۔

مسکراہٹ پر سب متفق ہیں

رمضان کے حوالے سے روایتی طور پر افطار میں بے حساب کھانا، روزے داروں کی بے صبری، افطار کا انتظار، تراویح سے اجتناب کے بہانے اور دکھاوے کے لیے نماز پڑھنے جیسے معاملات عموماً لطیفوں کا حصہ رہے ہیں، مگر اس بار یہ لطیفے ویڈیوز کی شکل میں فلمائے بھی گئے اور لاکھوں افراد نے انہیں دیکھا۔

رمضان سمیت مختلف اسلامی عبادات یا تعلیمات بہت سے مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس موضوع ہیں، جن سے متعلق مذاق آسان کام نہیں۔ اس کی وجہ ان سے جڑے جذبات ہیں۔ تاہم کچھ امور پر مذاق اب ایک روایت کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے مثلاً بے صبری سے افطار کے وقت کا انتظار اور افطار کے وقت خوراک کا ڈھیر سامنے رکھ لینا۔ اس کے باوجود یوٹیوبر زید علی اپنی ویڈیو سے قبل کہتے نظر آتے ہیں، ''اس ویڈیو میں کسی بھی چیز کو سنجیدہ مت لیجیے گا، کیوں کہ یہ فقط مذاق کے لیے ہے۔‘‘

ایک اور یوٹیوبر شاہویر جعفری رمضان سے متعلق مزاح کی حساسیت اور ممکنہ مسائل کو اپنی ویڈیوز ميں "رمضان میں عام افراد بہ مقابلہ میں" کا نام دے کر سلجھاتے ہیں، یعنی وہ مذاق کا موضوع خود کو بنا لیتے ہیں، جس میں وہ سحری کے وقت اٹھنے میں کوتاہی اور افطاری کے لیے بے صبری جیسے رویوں کو اپنی ویڈیو کا حصہ بناتے ہیں۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ رمضان سے متعلق لطائف کی روایت پرانی ہے جب کہ یو ٹیوب پر ویڈیوز کی شکل میں بھی رمضان سے جڑے مزاح کو کئی برس گزر چکے ہیں، مگر اب تک اس حوالے سے کبھی مذہبی طبقات کی جانب سے کوئی شکایت یا تنازعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ باقی تنازعے اور جھگڑے اپنی جگہ، مگر مسکراہٹ سب کو جوڑے کا ایک عمدہ آلہ ہے۔ مسکراہٹ پر کسی کو اختلاف نہیں۔

اسلامی تشخص اور مسلم کامیڈینز

امریکا میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشت گردی اور مسلم شدت پسندوں کے ربط سے جڑی خبریں اتنے تواتر سے سامنےآتی رہی ہیں کہ اس سے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی تناظر میں عرب اور ایرانی نژاد امریکی مسلم کامیڈینز مسلسل دہشت گردی کو اسلام سے جوڑے جانے کے تاثر کے خاتمے کے لیے اس موضوع کو اپنی لطائف کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کامیڈینز کا بنیادی موضوع مسلمانوں کے حوالے سے غیرمسلموں میں پائے جانے والے تصورات پر جملے کسنا ہوتا ہے۔ یہ کامیڈینز سمجھتے ہیں کہ مزاح کے ذریعے غیرمسلموں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق جنرلائزیشن نادرست عمل ہے۔ نیو یارک میں تو اس سلسلے میں مین ہیٹن میں "کامک اسٹرپ" جیسا میلہ بھی منعقد ہوتا رہا ہے، جس میں مسلم اسٹینڈ اپ کامیڈینز اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔