رمشاء کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آج متوقع | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رمشاء کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آج متوقع

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قید مسیحی لڑکی رمشاء کی مقامی عدالت میں دائر درخواست ضمانت پر فیصلہ آج جمعہ کو متوقع ہے۔ رمشاء کے وکیل کا کہنا ہے کہ طبی معائنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کی موکلہ نابالغ ہیں۔

رمشا کے طبی معائنے کے لیے قائم چار رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ منگل کے روز مقامی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ اسی عدالت نے رمشاء کی درخواست ضمانت پر سماعت 30 اگست تک ملتوی کی تھی۔ پاکستانی وزیراعظم کے انسانی حقوق سے متعلق مشیر مصطفی نواز نے امید ظاہر کی ہے کہ نابالغ ہونے کی وجہ سے رمشاء عدالت سے بری ہو جائے گی۔

رمشا رہائش پذیر تھی کی مسیحی برادری شدید خوف کا شکار ہے۔ علاقے میں کرائے کے مکان میں قائم واحد چرچ کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور رمشاء کے گھر کے ساتھ ساتھ چرچ کے دروازے پر بھی تالے پڑے ہوئے ہیں۔ 2 ہفتے قبل مبینہ طور پر رمشاء کی جانب سے قرآن پاک کے اوراق جلائے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور متعدد مسیحی خاندان علاقہ چھور کر چلے گئے ۔

Pakistan APMA Solidaritätsmarsch

آل پاکستان مائینورٹی الائنس کی جانب سے رمشا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

پانچ بچوں کی والدہ مسیحی خاتون ممتاز نے چرچ بند کیے جانے کے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں آپ کو پتہ ہے سب مسلمان ہیں یہ بھی کرائے کی جگہ کہہ کر مالک کو بنوائی تھی۔ چرچ بنوایا کہ چلو یہاں عبادت کریں گے۔ اب یہ لوگ ختم کروا رہے ہیں کہ ہماری مسلم برادری نہیں چاہتی کہ یہاں عبادت ہو۔''

ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے چرچ کی زمین کے مالک حاجی محمد نے بتایا کہ ان کا تعلق ملک برادری سے ہے اور ان پر برادری کا شدید دباؤ تھا کہ وہ چرچ کو بند کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ‘‘بس کیا بولیں ان لوگوں کی مرضی ہے ۔ کیا کریں۔ مجھ پر مسجد میں حملہ ہوا ہے کہ اس کا چرچ ہے اس کو برادری سے نکالیں۔ مجبوری ہے ناں برادری کی سیدھی بات ہے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔''

پولیس نے رمشاء کے واقعے پر پرتشدد احتجاج کرنیوالے 150 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے تاہم کئی دن گزرنے کے بعد ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی جا سکی۔ جان کے خوف کے سبب علاقہ چھوڑ جانے والے مسیحی خاندانوں میں سے کچھ کی واپسی بھی ہوئی ۔ ایسے ہی ایک یوسف مسیح نے بتایا کہ وہ مقامی بااثر افراد کی یقین دہانی پر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے رات مسجد میں اعلان کرایا تھا کہ یہاں جتنے عیسائی ہیں وہ چلے جائیں ورنہ ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم خود بھاگ گئے تھے ہم کل واپس آئے ہیں۔ ہمیں خوف پڑ گیا اور سحری کے وقت تمام لوگ چلے گئے۔ ہمیں یہاں کے ملک پپو نے واپس بلایا ہے اور کہا ہے کہ ہم آپ کے ذمہ دار ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کوئی یقین دہانی نہیں ہے۔ اللہ آپ کا مالک ہے ویسے اگر آپ نے مشکل کے وقت بلایا تو ہم آ جائیں گے۔''

Pakistan Haus von Rimsha

رمشا کا گھر

مقامی بااثر ملک برادری سے تعلق رکھنے والے سرفراز کا کہنا ہے کہ مسیحی لڑکی کی طرف سسے قرآن کے ورق جلائے جانے سے مقامی آبادی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’ مذہب ہماری زندگی اور روح ہے ۔ اسلام اور قرآن ہماری روح ہے ۔ اگر اس کے ساتھ ایسی کوئی بے حرمتی ہو جائے تو اللہ معاف کرے پھر اگر ہمارا سگا بھائی بھی اس معاملے میں ہو تو وہ ہمیں مذہب سے زیادہ عزیز نہیں۔''

رمشاء کے معاملے پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سمیت عیسائیوں کے روحانی مرکز ویٹی کن سٹی کی جانب سے بھی پاکستان پر زور دیا ہے تا کہ وہ مسیحی لڑکی کو رہا اور توہین مذہب کے قوانین پر نظرثانی کرے۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت: کشور مصطفیٰ