ذکری بلوچ کمیونٹی پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ذکری بلوچ کمیونٹی پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے اواران میں ذکری بلوچ مسلم کیمونٹی کی عبادت گاہ پر شدت پسندوں کے ایک حملے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

ذکری مسلم کیمونٹی کی عبادت گاہ ’ذکر خانے‘ پر یہ حملہ ضلع اواران کے نواحی علاقے قاسم جو میں اس وقت کیا گیا جب کیمونٹی کے افراد وہاں عبادت میں مصروف تھے ۔ حملہ آوروں نے ذاکرین پر گھات لگا کر فائرنگ کی۔ جس کی زد میں آکر چھ افراد موقع پر جبکہ دو افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ اس حملے میں سات دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے تین ذکری فرقے کےاہم رہنماء بتائے جاتے ہیں۔

حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے

حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے

حکام کے مطابق ذکریوں کی عبادت گاہ پر حملہ 15 سے زائد مسلح افراد نے کیا جو واقعے کے بعد فرار ہو گئے ۔صوبائی محکمہ داخلہ نے حملے کے بعد بلوچستان بھر میں ذکری بلوچ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور حساس علاقوں میں فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

پاکستان میں دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار، جنرل ( ر) طلعت مسعود کے بقول ذکری بلوچوں پر تازہ حملہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر ہے، جس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ہونے چاہییں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا: ’’یہ حملہ بالکل ایک نئے زاویے سے کیا گیا ہے۔ شدت پسند پھر منظم ہو گئے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں فرقہ وارانہ فسادات میں تیزی لا کر بد امنی پھیلائیں۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان گروپوں نے اقلیتوں کی اہم شخصیات پر بھی حملے کیے ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت وہ ہر طرف ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور فرقہ ورانہ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔‘‘

جنرل (ر) طلعت مسعود کا مزیدکہنا تھا کہ عسکریت پسند ایک ایجنڈے کے تحت اپنے اہداف پر حملے کر رہے ہیں اور حالیہ پرتشدد واقعات بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے: ’’یہ گروپ بہت طاقتور ہو گئے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہاں انتشار پھیلے اور چونکہ یہاں ایک علیحدگی کی تحریک بھی جاری ہے اس لیے یہ اس سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حالانکہ علیحدگی پسند بھی ان کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ ان گروپوں کے باہر سے بھی رابطے ہیں اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری پراکسی وار کے بھی پاکستان پر مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔‘‘

ذکری بلوچ مسلمانوں کی عبادت گاہ پر ہونے والے اس حملے کےخلاف آج جمعہ کے روز کوئٹہ، اواران ، ماشکیل اور تربت میں ذکری کمیونٹی کے افراد کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ مظاہرین نے حملے میں ملوث گروپوں کے خلاف کارروائی اور اپنے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ: عبدالغنی کاکڑ، کوئٹہ