دیوارِ برلن کے انہدام کے تیس برس، جرمنی میں تقریبات | حالات حاضرہ | DW | 09.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دیوارِ برلن کے انہدام کے تیس برس، جرمنی میں تقریبات

جرمنی میں دیوارِ برلن کے انہدام کی تیسویں سال گرہ منائی جا رہی ہے۔ تیس برس برلن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی اس دیوار کے انہدام نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی تھی اور مشرقی اور مغربی جرمنی کا انضمام ممکن ہوا تھا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے آج دیوار برلن کے انہدام کی تقریب کے موقع پر کہا کہ اس دیوار کا نہ ہونا، خود اتنا بلند اور وسیع عمل ہے، جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

اس دیوار کے انہدام کی تیسویں سال گرہ کے موقع پر جرمنی بھر میں مختلف ریلیاں نکالیں گئیں اور یادگاری تقریبات اور نمائشیں بھی منعقد ہوئیں۔ برلن میں دیوارِ برلن کے انہدام کی تقریب میں سلوواکیا، پولینڈ، چیک جمہوریہ اور ہنگری کے رہنماؤں نے شرکت کی اور پھول نچھاور کیے۔

یورپ بھر سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد برلن میں موجود ہے، جو اس براعظم کے مستقبل پر اپنی رائے بانٹ رہی ہے۔

برلن میں دیوارِ برلن کی تقریب میں شریک استنبول کے میئر اکرم امام آؤلو نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ سیاسی تقسیم یورپی اتحاد کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ''دیواریں ضروری نہیں کہ مادی ہوں۔ ضروری نہیں کہ وہ سیمنٹ، بجری یا فولاد سے تعمیر کی جائیں۔ کبھی کبھی دو افراد ایک دوسرے کے بالکل قریب کھڑے ہوتے ہیں اور ایک غائبانہ دیوار ان کے درمیان قائم ہوتی ہے۔‘‘

جرمن اور غیرملکی مہمانوں کی جانب سے اس تقریب میں شرکت کے بعد، برلن کے رہائشیوں نے دوپہر میں بیرناؤور اشٹراسے میں دیوارِ برلن کی یادگار کے قریب موم بتیاں روشن کی۔

اس موقع پر سابقہ مشرقی جرمنی ''ڈیموکریٹک ریپبلک جرمنی‘‘ کی گاڑیاں بھی برلن میں دوڑتی دکھائی دیں، جو دیوار برلن کے انہدام کے جشن کا حصہ تھیں۔ آج ہی کے دن سابقہ مشرقی جرمن حکام نے مشرقی برلن کے رہائشیوں کے لیے مغربی برلن میں داخل ہونے کے لیے دروازے کھول دیے تھے اور وہ پیدل اور مقامی گاڑیوں کے ہم راہ مشرقی سے مغربی برلن میں داخل ہوئے تھے۔

آج لائپزگ شہر میں بھی مقامی حکام نے ایک خصوصی نمائش کا انعقاد کیا۔ اس نمائش میں سابقہ مشرقی جرمنی کے مصوروں نے سن 1989 کے جو مناظر اپنی نگاہوں سے دیکھے تھے، انہیں فن کے ذریعے پیش کیا۔ اس نمائش کا نام ''پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ یا 'نکتہء ناقابلِ واپسی‘ رکھا گیا تھا۔

تیس برس قبل جب سابقہ مشرقی جرمنی کے حکام نے اپنی سرحدیں کھولیں، تو ہزاروں افراد مغربی جرمنی کی طرف دوڑے تاکہ وہاں کام تلاش کر سکیں۔ اس وقت سابقہ مشرقی جرمنی کے علاقوں میں آبادی میں مسلسل کمی کا رجحان ہے۔

DW.COM