دہلی پولیس کا پاکستانی شدت پسند کو گرفتار کرنے کا دعوی | حالات حاضرہ | DW | 12.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دہلی پولیس کا پاکستانی شدت پسند کو گرفتار کرنے کا دعوی

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب سے ہے اوروہ دہلی میں کئی برسوں سے مقیم تھے۔ پولیس نے ان کے پاس سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پولیس نے 12 اکتوبر منگل کے روز پاکستان کے ایک سرگرم شدت پسند کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا۔ پولیس کے مطابق وہ بھارتی دارالحکومت میں حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جنہیں شمال مشرقی دہلی کے لکشمی نگر علاقے سے حراست میں لے لیا گیا۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں ایک فرضی نام سے گزشتہ تقریباً دس سے پندرہ برسوں سے مقیم تھے اور ان کے پاس سے ایک ا ے کے 47 رائفل، ایک دستی بم، پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

پولیس نے ان کی شناخت محمد اشرف علی کے طورپر کی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ بھارت میں علی احمد نوری کے جعلی نام سے رہ رہے تھے اور اسی نام پر بعض دستاویزات بھی حاصل کر لی تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق اصل میں ان کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب میں ناروال سے ہے۔ ان کے خلاف متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ کے پولیس کمشنر نیرج ٹھاکر نے اس گرفتاری سے متعلق مقامی میڈیا سے بات چیت میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک دہشت گرد لکشمی نگر میں چھپا ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں شہر میں حملے کی کوئی بڑی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی خفیہ، ''معلومات کی بنیاد پر چھاپے کی کارروائی کی گئی اور علی اشرف کو پیر کی رات کو تقریبا ً10 بجے ان کی رہائش گاہ سے پکڑا گیا۔ ہمیں اس کے گھر سے کئی اسلحے اور گولہ بارود کے ساتھ ہی ایک اے کے 47 رائفل بھی ملی ہے۔ شبہ اس بات کا ہے کہ وہ شہر میں شاید کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔''

دہلی میں محکمہ پولیس کے سربراہ راکیش استھانہ نے اس گرفتاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا، ''فیسٹیول سیزن سے پہلے اسپیشل سیل کی جانب سے یہ ایک اچھی کارروائی ہے۔ ہماری ٹیم کی جانب سے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا

 ہے۔''  

پولیس کے دعوے کے مطابق علی اشرف کو حراست میں لینے کے بعد جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے اپنے پاس ہتھیار ہونے کی بات تسلیم کی اور پھر ان کے گھر سے یہ ہتھیار برآمد کیے گئے۔ یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ اشرف علی کے پاس بھارتی پاسپورٹ بھی موجود ہے تاہم یہ انہوں نے جعلی طریقے سے حاصل کیا تھا۔

بھارت میں پولیس حکام نے کچھ دنوں قبل بھی ملک کے متعدد علاقوں سے شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا اور ان پر بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم دارالحکومت دہلی میں کسی پاکستانی شخص کی گرفتاری کافی دنوں بعد منظر عام پر آئی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ کچھ برسوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں بھی کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو پکڑا تھا اور اس کے بارے میں بھی پولیس نے یہی دعوی تھا کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے جنہیں تربیت دے کر کشمیر میں بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔      

ویڈیو دیکھیے 06:19

بھارتی پائلٹ کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں، مکتا دتا

DW.COM