دہلی میں خالص آکسیجن میں پندرہ منٹ سانس لیجیے، قیمت چار ڈالر | سائنس اور ماحول | DW | 17.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

دہلی میں خالص آکسیجن میں پندرہ منٹ سانس لیجیے، قیمت چار ڈالر

ڈھائی کروڑ کی آبادی اور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہونے والے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اب وہاں صاف ہوا میں سانس لینے کے لیے ایک آکسیجن بار بھی کھل چکی ہے۔

نئی دہلی کے شہری حفاطتی ماسک پہننے پر مجبور، پس منظر میں انڈیا گیٹ

نئی دہلی کے شہری حفاطتی ماسک پہننے پر مجبور، پس منظر میں انڈیا گیٹ

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی اتوار 17 نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق نئی دہلی میں ماحولیاتی آلودگی، خاص کر فضا میں پائی جانے والی کثافتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ وہاں زندہ رہنے کے لیے سانس لینا تو آج بھی لازمی ہے مگر یہی لازمی کام بہت خطرناک بھی ہو چکا ہے۔

دنیا کے دس آلودہ ترین شہروں میں متعدد بھارتی شہر بھی شامل ہیں، اور انہی میں سے ایک نئی دہلی بھی ہے۔ نئی دہلی کی آبادی تقریباﹰ 25 ملین ہے اور وہاں عام شہریوں میں صحت کی حفاظت کے لیے حفاطتی ماسک اور ہوا کو صاف کرنے والے آلات خریدنے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ جو کوئی بھی ایسی مصنوعات کا کاروبار کرتا ہے، اسے اپنے لیے کاروباری منافع کی تو کوئی فکر نہیں ہوتی۔

'خالص خوشبو دار آکسیجن‘

بھارتی دارالحکومت میں نہ صرف فضائی آلودگی سے تحفظ فراہم کرنے والی مصنوعات کی فروخت بہت زیادہ ہو چکی ہے بلکہ اب وہاں پر ایک ایسی 'آکسیجن بار‘ بھی کھل چکی ہے، جہاں عام شہری خالص آکسیجن میں سانس لے سکتے ہیں اور وہ بھی لوینڈر، لیمن گراس یا کئی دیگر اقسام کے تیل کی خوشبوؤں کے ساتھ۔

لیکن اس کی بھی اپنی ہی ایک قیمت ہے۔ پندرہ منٹ تک 'آکسی پیور‘ (Oxy Pure) نامی اس بار میں جا کر اپنے منہ پر ماسک پہنیے، خالص آکسیجن  میں سانس لیجیے اور اس کا معاوضہ 299 بھارتی روپے، جو چار امریکی ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے باعث ایمرجنسی کا اعلان

دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت کا دارالحکومت گزشتہ صرف دو ہفتوں میں اس حد تک فضائی آلودگی کا شکار رہا ہے کہ حکام کو صحت عامہ کے حوالے سے بحرانی صورت حال کا اعلان کرنا پڑ گیا اور صرف چودہ روز کے اندر اندر دو بار 'پولیوشن ایمرجنسی‘ کے باعث تمام اسکول بند کر دیے گئے اور بچوں اور بزرگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

'آکسی پیور‘ کے مالک 26 سالہ آیاویر کمار کہتے ہیں، ''نئی دہلی میں یہ آکسیجن  بار اپنی نوعیت کی پہلی کمرشل سہولت ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عام شہری اس شہر کی نہ صرف انتہائی آلودہ فضا سے کچھ دیر کے لیے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح نئی دہلی کے شہری اپنے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان، تھکن کے احساس، کم خوابی، بے خوابی یا ڈپریشن جیسے ان مسائل سے بھی کافی حد تک چھٹکارا پا سکتے ہیں، جن کا سبب اس شہر کا انتہائی خراب 'ایئر کوالٹی انڈیکس‘ یا AQI بنتا ہے۔

خالص آکسیجن کے 'پورٹ ایبل کین‘ بھی

آیاویر کمار نے ڈی پی اے کو بتایا، ''ان دنوں ہماری آکسیجن بار میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے لے کر 40 تک ایسے گاہک آتے ہیں، جو صاف ہوا میں سانس لینے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاہکوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اگر چاہیں، تو آکسیجن کے چھوٹے 'پورٹ ایبل کین‘ اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ وہ صاف ہوا میں سانس بھی لے سکیں اور ان کی معمول کی مصروفیات زندگی بھی متاثر نہ ہوں۔‘‘

کئی سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسیجن بار کھولنا منافع بخش کاروبار تو ہو سکتا ہے لیکن طبی حوالے سے یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کسی عام انسان کے لیے، جس کا عمومی فضائی ماحول انتہائی آلودہ ہو، بالکل خالص آکسیجن میں سانس لینا کس حد تک صحت بخش ہو سکتا ہے۔

فضائی آلودگی میں سانس، روزانہ تیس سگریٹ پینے کے برابر

نئی دہلی کے ایک شہری اور ایک مالیاتی فرم کے لیے کام کرنے والے کپیل گُلیا نے کہا، ''یہ ایک اچھا کاروباری ڈھونگ ہے، جس کے ذریعے فضائی آلودگی کی خطرناک سطح سے تجارتی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔‘‘

وہ کہتے ہیں، ''کسی ایسے شہر میں، اگر آپ روزانہ بھی ایسا کریں، تو صرف 15 منٹ تک خالص آکسیجن میں سانس لینے کا کیا فائدہ، جب دن کے باقی ماندہ پونے 24 گھنٹے آپ پھر اسی فضا میں سانس لیتے ہوں، جہاں صرف سانس لینے کا مطلب یہ ہو کہ جیسے آپ نے روزانہ تقریباﹰ 30 سگریٹ پیے ہوں؟‘‘

طبی ماہرین کے مطابق خالص آکسیجن میں سانس لینا اس لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے کہ عام طور پر اوسط درجے کی فضائی آلودگی والے کسی بھی مقام پر جب کوئی انسان سانس لیتا ہے، تو ہوا میں آکسیجن کا تناسب تقریباﹰ 20 فیصد ہوتا ہے۔ اس لیے یہی تناسب اگر 100 فیصد یا اس کے قریب قریب ہو جائے، تو اس کے فائدے کے بجائے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

م م / ع س (ڈی پی اے)

DW.COM