دہلی آتشزدگی پر سیاست شروع | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دہلی آتشزدگی پر سیاست شروع

نئی دہلی میں اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکمران عام آدمی پارٹی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اس واقعے کے لیے ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے جو مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر دہلی کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے دوسری طرف بی جے پی دہلی کی اروند کیجریوال حکومت کو ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی من جندر سنگھ سرسا نے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال سے آج پیش آنے والے سانحے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفٰی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا، ”ایک وزیر اعلٰی کو اس پر شرم آنا چاہیے جس نے بجٹ کی پوری رقم اپنی اشتہار پر خرچ کردی اور زمینی سطح پر کچھ بھی کام نہیں کیا۔"

بی جے پی کے ایک اور رہنما نے کہا، ”جناب وزیر اعلٰی، دہلی فائر ڈپارٹمنٹ تو آپ کے ماتحت ہے لیکن آج پتہ چلا کہ ان کے پاس تو آلات بھی نہیں ہیں حتٰی کہ ان کا ہیلمٹ بھی گھٹیا کوالٹی کا ہے۔ ایک عام بائیک سوار کے پاس بھی اس سے زیادہ اچھا ہیلمٹ ہوتا ہے۔"
نئی دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال کے مطابق اس سانحے کی عدالتی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کمیٹی سے ایک ہفتہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ دہلی میں آج اتوار اتوار آٹھ دسمبر کی صبح ایک چار منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ ایک درجن سے زائد افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ رانی جھانسی روڈ پر واقع اناج منڈی علاقہ میں جہاں یہ سانحہ پیش آیا وہاں غیر قانونی طور پر متعدد چھوٹے کارخانے چل رہے ہیں۔ گو یہ رہائشی علاقہ ہے لیکن یہاں غیر قانونی طورپر بہت سارے چھوٹے چھوٹے کارخانے چلتے ہیں۔ پورے علاقوں میں بجلی کے لٹکتے ہوئے تاروں کا جال بچھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حتٰی کہ دو مکانات کے درمیان کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔ تقریباً ہر مکان میں صرف ایک ہی زینہ ہے۔ جس کی وجہ سے بھی آگ لگنے کے بعد لوگ بلڈنگ میں پھنس کر رہ گئے۔

Indien Neu Delhi Feuer Großbrand

فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو تنگ گلیاں ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کافی مشقت کرنا پڑی۔


نئی دہلی کے چیف فائر افسر اتول گرگ نے بتایا، ”محکمہ کو آگ لگنے کی اطلاع صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے موصول ہوئی۔ جس کے فوراً بعد وہاں فائر ٹینڈر بھیج دیے گئے۔ لیکن اس علاقے کی گلیاں کافی تنگ ہیں۔ جس چار منزلہ عمارت میں آگ لگی وہ صرف پانچ سو گز کے رقبہ پر تعمیر کی گئی ہے اور اس میں کئی طرح کی فیکٹریاں چلتی تھیں۔ بلڈنگ میں اسکول بیگ بنانے اور پیکیجنگ کا کام ہوتا تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ بلڈنگ میں باہر سے تالا لگا ہوا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا، ”وہاں زہریلا دھواں بھرا ہوا تھاجس کی وجہ سے بیشتر لوگوں کو بے ہوشی کی حالت میں ہی باہر نکالا گیا۔ اس بڑی عمارت میں صرف ایک ہی زینہ ہے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو تنگ گلیاں ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کافی مشقت کرنا پڑی۔"


آتش زدگی کے اس واقعے پر بھارتی صدر رام ناتھ کووند، وزیر اعظم نریند رمودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال، کانگریس پارٹی کی کارگزار صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دہلی حکومت نے مرنے والوں کے قریبی رشتہ دار کودس لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے فی کس جب کہ بی جے پی نے ہلاک ہونے والوں کو پانچ لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو پچیس ہزار روپے فی کس معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے فنڈ سے دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل فروری میں دہلی کے قلب میں ہی واقع قرول باغ کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں کئی غیر ملکی شامل تھے۔ جب کہ اسی سال جنوری میں دہلی کے جنوب مشرقی حصے میں موجود ایک کارخانہ میں آگ لگنے سے چار افراد زندہ جل گئے تھے۔