دو نئے صوبوں کی قرارداد: سرائیکی قوم پرستوں کی مخالفت | حالات حاضرہ | DW | 24.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دو نئے صوبوں کی قرارداد: سرائیکی قوم پرستوں کی مخالفت

پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے سرائیکی علاقوں میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے نام سے دو نئے صوبوں کی قراردار کو سرائیکی قوم پرست سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے مسترد کر دیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کل بروز منگل قومی اسمبلی میں بہاولپور صوبے اور جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی تھی، جس پر گرما گرم بحث بھی ہوئی۔
نون لیگ کا دعویٰ ہے کہ وہ ان صوبوں کے قیام میں سنجیدہ ہے لیکن سرائیکی قوم پرست جماعتوں کا خیال ہے کہ ن لیگ اس معاملے کو متنازعہ بنا رہی ہے تاکہ کوئی صوبہ بن ہی نہ سکے۔ سرائیکی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی آبادی پانچ کروڑ سے بھی زیادہ ہے اور وہ تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور لسانی اعتبار سے ایک الگ قوم ہیں، جن کے لئے ایک علیحدہ وفاقی اکائی ہونی چاہیے۔ تاہم کچھ پنجابی قوم پرست سرائیکی کو پنجابی زبان کا ہی حصہ سمجھتے ہیں اور وہ پنجاب کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ سرائیکی قوم پرست جماعتیں کئی دہائیوں سے سرائیکی علاقوں میں علیحدہ صوبے کی تشکیل کے لئے سر گرم ہیں لیکن ان جماعتوں کو کبھی انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

 ان جماعتوں کا دعویٰ ہے صوبے کے مسئلے پر سرائیکی عوام ان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان سرائیکی پارٹی کی سربراہ ڈاکڑ نخبہ تاج لنگا کے خیال میں ن لیگ اس مسئلے کو متنازعہ بنانا چاہتی ہے۔

 ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ن لیگ نے سن دو ہزار دس میں بھی اس مسئلے کو متنازعہ بنایا تھا۔ بہاولپور ایک راجدھانی تھی، تو اسے صوبے کا درجہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ون یونٹ کے بعد جو لوگ بہاولپور کو صوبہ بنانا چاہتے تھے، وہ بھی بعد میں سرائیکی صوبے کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ ملتان سرائیکی خطے کا ہمیشہ سے ایک اہم مرکز رہا ہے۔اس خطے میں رہنے والے سارے ہمارے بھائی ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے ایک وفاقی اکائی ہو۔‘‘


اس سوال پر کہ نون لیگ کیوں نہیں چاہتی کہ سرائیکی صوبہ نہ بنے؟ ڈاکڑ نخبہ نے بتایا، ’’نون لیگ کے دور میں چولستان اور بہاولپور میں بہت سرمایہ کاری ہوئی ہے اور بڑے پیمانے پر زمینیں خریدی گئیں ہیں۔ تو غالباﹰ ان کے تحفظ کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ صوبہ نہ بنے۔ اس لئے وہ اس کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کو یہ بھی خوف ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی تعداد کم ہو جائے گی۔ یہ بھی ایک عنصر ہے۔‘‘
کچھ سرائیکی دانشوروں کا خیال ہے کہ صوبے کے معاملے میں سیاسی جماعتوں میں پہلے ہی تقسیم تھی اور ن لیگ اس طرح کی قراد دادیں پیش کر کے اس تقسیم کو تیز کرنا چاہتی ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے  تجزیہ کار احسن رضا کے خیال میں ن لیگ نے صوبے کے کاز کو نقصان پہنچایا ہے، ’’ن لیگ کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ان کی حمایت کے بغیر سرائیکی صوبہ نہیں بن سکتا تو وہ اس کو متنازعہ بنا رہی ہے تاکہ صوبہ نہ بنے۔ ایک ڈویژن کا صوبہ ایک میونسلپٹی کی طرح ہو گا اور اس کو سینیٹ، این ایف سی اور پانی کی حصے داری پر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اگر یہ صوبہ تین ڈویژن پر مشتمل ہو تو یہ موثر آواز بن سکتا ہے اور پنجاب کی سیاسی برتری کو بھر پور چیلنج کر سکتا ہے اور یہ نون لیگ نہیں چاہتی۔‘‘
کچھ سرائیکی قوم پرست ن لیگ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ گریٹر پنجاب بنانا چاہتی ہے اور صوبے کے مسئلے پر وہ سرائیکی عوام کو تقسیم کرنا چاہتی ہے تاکہ یہ مسئلہ التواء کا شکار ہو جائے۔ سرائیکستان قومی کونسل کے مرکزی صدر ظہور دھریجہ کے مطابق ن لیگ نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں، ’’ایک طرف تو ن لیگ نے بہاولپور کے عوام کو دوسرے سرائیکی علاقوں کے لوگوں کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے اور دوسری طرف انہیں چھوٹے صوبوں کے لوگوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی ہے۔ ن لیگ کو معلوم ہے کہ چھوٹے صوبے سرائیکی خطے میں کبھی دو وفاقی اکائیوں کے فارمولے کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ ایسی صورت میں سینیٹ میں سرائیکی علاقوں کی اکثر یت ہو جائے گی، جو چھوٹے صوبوں کو کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔ اس طرح یہ مسئلہ بھر پور مخالفت کی وجہ سے التواء کا شکار ہو جائے گا اور ن لیگ دراصل یہی چاہتی ہے۔‘‘
تاہم ن لیگ اس تنقید کو یکسر مسترد کرتی ہے اور ان کے خیال میں انہوں نے صوبوں کی تشکیل کی قرارداد بہت سوچ سمجھ کر پیش کی ہے۔ ان کے خیال میں اعتراض کرنے والی ان قوم پرستوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر برائے ماحولیات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اس مسئلے پر اپنی جماعت کا موقف دیتے ہوئے کہا، ’’نون لیگ جو کہتی ہے وہ کر کے دکھاتی ہے۔ ہم نے سرائیکی صوبے کا وعدہ کیا تھا اور عملی طور پر ہم نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ دو صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ تنقید کرنے والی قوم پرست جماعتوں نے ان صوبوں کے لئے کچھ نہیں کیا اور ن لیگ کر رہی ہے تو انہیں پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘
چھوٹے صوبوں کی طرف سے بھی سرائیکی خطے میں دو صوبوں کی تشکیل کی مخالفت ہو رہی ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختون قوم پرست رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کے خیال میں دو صوبوں کا تصور قابلِ قبول نہیں ہے، ’’پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں پختون، پنجابی، بلوچ ، سندھی اور سرائیکیوں سمیت پانچ قومیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے ثقافتی، تاریخی، جغرافیائی اور لسانی بنیادوں پر ہوں اور سرائیکیوں کے لئے ایک صوبہ ہو۔ دو صوبے ہونے کی شکل میں اس خطے کے لوگوں کی سینیٹ میں اکثریت ہو جائے گی، جو قابلِ قبول نہیں ہے۔‘‘