دو دنوں میں ٹرمپ کے لیے دوسرا بڑا عدالتی دھچکا | حالات حاضرہ | DW | 05.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو دنوں میں ٹرمپ کے لیے دوسرا بڑا عدالتی دھچکا

سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے دائر کردہ وہ ہنگامی اپیل مسترد کر دی ہے، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ سفری پابندیوں کی معطلی کے عدالتی فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

محکمہ انصاف نے اپیل کی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر جاری کیا گیا تھا اور اس پر فوری اطلاق ہونا چاہیے۔ تاہم اپیل کورٹ نے کہا ہے کہ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس تناظر میں اس کا موقف بھی سننا ضروری ہے۔

’سفری پابندیوں کی معطلی‘ کے خلاف صدر ٹرمپ نے اپیل دائر کر دی

امیگریشن پابندیاں: ’نام نہاد جج کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے‘، ٹرمپ

ٹرمپ کی امیگریشن پابندیاں، امریکی عدالت نے عمل درآمد روک دیا

خبررساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ اپیل کورٹ نے کہا ہے کہ امریکا کے ایک وفاقی جج کی طرف سے سفری پابندیوں کی معطلی کے فیصلے کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ توقع ہے کہ اب پیر کی شام تک اس اپیل پر دوبارہ سماعت ہو سکے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سان فرانسسکو میں نویں سرکٹ اپیل کورٹ کے تین ججوں کے ایک پینل نے اس حکومتی اپیل کی سماعت کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے سفری پابندیوں کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کا مقصد امریکا کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اس لیے اس پر فوری عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی جا رہی ہے۔

جمعے کے دن امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل کے وفاقی جج جیمز رابرٹ نے اس پابندی کو عارضی طور پر ملک بھر سے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا، جس کے بعد ہفتے کے دن امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے اس کے خلاف عدالتی اپیل دائر کر دی گئی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق ہفتے کی دن دائر کردہ اس اپیل کے درخواست دہندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ بطور امریکی صدر جبکہ ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جان کیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی شامل ہیں۔

US-Bundesrichter James Robart (picture-alliance/dpa/United States Courts)

سیاٹل کے وفاقی جج جیمز رابرٹ نے سفری پابندی کو عارضی طور پر ملک بھر سے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا

صدر ٹرمپ کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتہ بعد ستائیس جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ملک ایران، عراق، شام، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن کے شہریوں کی امریکا آمد پر نوّے دن کی پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ مہاجرین کی امریکا آمد پر ایک سو بیس دن کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے فیصلے کے خلاف امریکا سمیت متعدد یورپی ممالک میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب کے باہر دو ہزار افراد نے اس صدارتی حکم کے خلاف احتجاج کیا۔

اسی طرح دیگر امریکی شہروں کے علاوہ برطانیہ اور فرانس میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ سب سے بڑا مظاہرہ لندن میں ہوا، جس میں تقریبا دس ہزار مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی طرف سے امریکی صدر کی حمایت پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

DW.COM

اشتہار