’دوہری‘ امریکی پالیسی کے مقابلے کے لیے پاکستان، ایران متفق | حالات حاضرہ | DW | 08.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’دوہری‘ امریکی پالیسی کے مقابلے کے لیے پاکستان، ایران متفق

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی ’دوہری، دوغلی اور تقسیم کرنے والی پالیسی‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلم ممالک، بشمول ایران وپاکستان کو باہمی تعاون مزید مضبوط کرنا چاہیے۔

یہ بات ایران کی سپریم نیشنل کونسل کے سیکریڑی علی شمخانی نے تہران میں اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے اتوار کے روز ایک ملاقات کے دوران کہی۔ شمخانی نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی ایجنسیوں کو فوری طور پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جب کہ ناصر جنجوعہ کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ معاشی اور سکیورٹی تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔

اس ملاقات کو پاکستان میں کئی ماہرین پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کی جانب مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران اور اسلام آباد دونوں ہی کو امریکا کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے ۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں دونوں ممالک کو ماضی کی تلخیاں بھلاتے ہوئے مشترکہ حریف کے خلاف مل کر ایسا محاذ بنانا چاہیے جس کو خطے کے دوسرے ممالک کی بھی حمایت حاصل ہو۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت اے وزارت نے اس دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا،’’پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات خطے کے لئے بہت اچھے ہیں۔ ماضی میں ایران کے ساتھ ہمارے اختلافات رہے ہیں۔ جیسا کہ وہ افغانستان میں شمالی اتحاد کی حمایت کر رہے تھے اور ہم طالبان کی۔ لیکن اب افغانستان میں داعش کے آنے کی وجہ سے ایران بھی طالبان کی طرف ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہمیں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ اور اس پر بھارتی اثرورسوخ کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن دونوں ممالک کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ امریکی دھمکیاں ہیں۔ تو اس لئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے اور باہمی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب شائد ہماری اور ایران کی قربت کو پسند نہ کرے لیکن ریاض کے بھی کئی ایسے اقدامات ہیں، جس کو نہ صرف پاکستان بلکہ کئی اور دوسرے مسلم ممالک میں بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ مثلاﹰ سعودی عرب کی اسرائیل سے قربت کو کوئی مسلم ملک پسند نہیں کرتا۔ پاکستان کے لئے یہ قربت اس لئے بھی پریشانی کا باعث ہے کہ اسرائیل کے بھارت سے بڑے قریبی روابط ہیں اور ددنوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بہت گہرا ہے اور پاکستان کو اس تعاون پر سخت تشویش ہے۔ لیکن سعودی عرب نے تو کبھی ہماری اس پریشانی کو نہیں سمجھا۔ تو ہمیں بھی اپنے قومی مفادات کو دیکھنا چاہیے اور ایران سے تعلقات میں بہتری لانی چاہیے۔‘‘

مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار ڈاکٹر توقیر گیلانی کے خیال میں یہ بات بہت مثبت ہے کہ ہم خطے کے ممالک سے بہتر تعلقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا سے بہتر تعلقات کے نتیجے میں ہمیں کیا ملا۔؟ جہادی و فرقہ وارانہ تنظیمیں اور نفرت پھیلانے والے مدارس۔؟ دونوں ممالک نے ہمیشہ پاکستان میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کی حمایت کی جس کی وجہ سے پاکستانی سماج کی بنیادوں میں بھی دراڑیں پڑیں۔ اب ہمیں اچھا موقع ملا ہے۔ ہمیں نہ صرف ایران سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہیں بلکہ روس اور چین کے ساتھ مل کر خطے کو مضبوط کرنا چاہیے اور یہاں سے سعودی و امریکی اثر ورسوخ کو ختم کرنے کے لئے کام کرنا چاہیے۔‘‘

تجزیہ کار احسن رضا کے خیال میں پاکستان اور ایران کی چین و روس سے بڑھتی ہوئی قربت دونوں ممالک کے درمیان قدرِ مشترک تو تھی ہی لیکن اب امریکی دھمکیوں نے ان ممالک کو مزید قریب کر دیا ہے۔

پاکستان کے کچھ حلقوں میں ایسے تحفظات پائے جاتے ہیں کہ ایران کو غیر مستحکم کرنے کے بعد پاکستان کی باری آئے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں پہلے ہی خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔ اگر ایران میں بھی انتشار ہوگیا تو پاکستان کے لئے یہ بات بڑی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے دونوں ممالک کو مل کر امریکی حکمت عملی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات