دنیا کے بحران زدہ خطوں میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دنیا کے بحران زدہ خطوں میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق دنیا کے بحران زدہ خطوں میں رہنے والے بچوں میں سے قریب ڈھائی کروڑ تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ملکوں میں ہر چوتھا بچہ پڑھنے کے لیے اسکول نہیں جاتا۔

نوآزاد افریقی ریاست جنوبی سوڈان میں تو ایسے بچوں کی شرح 50 فیصد بنتی ہے، جو حصول تعلیم سے محروم ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 22 ملک ایسے ہیں، جہاں بحرانی حالات پائے جاتے ہیں۔ ان ملکوں میں چھ سے لے کر پندرہ سال تک کی عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد 109 ملین بنتی ہے۔ ان نابالغ شہریوں میں سے 24 ملین یا تقریباﹰ ہر چوتھا بچہ اسکول نہیں جاتا۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے جنگوں اور بحرانوں کی زد میں آئے ہوئے ملکوں اور خطوں میں بچوں کی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسے علاقوں میں بچوں کو تعلیمی مواقع دستیاب نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہی بچے مستقبل میں بالغوں کے طور پر بہتر اقتصادی مواقع سے محروم رہیں گے۔

سب سے زیادہ پریشان کن صورت حال کا سامنا جنوبی سوڈان کے بچوں کو ہے۔ وہاں 51 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ اسی طرح نائجر میں 47 فیصد بچے، سوڈان میں 41 فیصد اور افغانستان میں 40 فیصد لڑکے لڑکیاں اسکولوں میں تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔

UNICEF کے تعلیمی امور کے شعبے کے سربراہ جو بورن نے اس حوالے سے نیو یارک میں بتایا، ’’جنگی تنازعات سے متاثرہ ممالک میں بچے اپنے گھر، اہل خانہ، دوست، تحفظ کی فراہمی اور تعلیم کے حصول کے مواقع کھو چکے ہیں۔‘‘

جو بورن نے کہا، ’’اس وقت لکھنے پڑھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم یہ بچے اس خطرے سے دوچار ہیں کہ وہ نہ صرف ایک اچھے مستقبل سے محروم رہیں گے بلکہ بڑے ہو کر ان ممالک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کوئی کردار بھی ادا نہیں کر سکیں گے، جن کا وہ حصہ ہیں۔‘‘

اشتہار