دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ہجرت شروع | معاشرہ | DW | 17.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ہجرت شروع

چین میں قمری سال کا آغاز ہوتے ہی جمعے کے روز چین کے باشندے جوق در جوق بس اسٹیشنوں پر پہنچ گئے تا کہ وہ اس قومی تہوار میں حصہ لے سکیں۔ اسے دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ہجرت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

بیجنگ میں ملکی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق موسم بہار کے اس سالانہ تہوار کے دوران کروڑہا چینی شہری مجموعی طور پر تین ارب مرتبہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کریں گے۔ رواں برس دس جنوری کو اس عوامی تہوار کا آغاز ہوا اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تہوار اٹھارہ فروری تک جاری رہے گا۔ گو کہ نئے قمری سال کا آغاز پچیس جنوری کو ہو گا۔

چین میں یہ تہہوار اہل خانہ سے ملاقات اور تقریبات میں شریک ہونے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔ اپنے آبائی علاقوں اور شہروں سے دور کام کرنے والے کروڑوں چینی کارکنوں کے لیے اکثر سال بھر میں وہ واحد موقع بھی جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔

اس سال اس سفر کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی کیونکہ وسطی چین میں نمونیا کی وبا بھوٹ پڑی ہے۔ ووہان شہر میں اکتالیس افراد میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وائرس کے نتیجے میں کوئی بھی شخص نزلہ زکام سے لے کر سارس جیسی شدید بیماری کا  بھی شکار ہو سکتا ہے۔ سارس وائرس کسی بھی مریض کے نظام تنفس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا دو مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

وانگ یان جو کہ محکمہ نقل و حمل کے چیف انجینئر ہیں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کے  لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ وانگ نے پچھلے ہفتے ایک نیوز کانفرنس میں رپورٹرز کو بتایا کہ اس بیماری کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے خاص کر ان جگہوں پر جہاں اس عوامی تہوار کو منانے کے لیے لوگ اکٹھے ہوتے اور سفر کرتے ہیں۔

جمعے کی صبح بیجنگ کے جنوبی اسٹیشن کے مرکزی ہال پر جہاں ہزاروں لوگ جمع تھے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے اضافی اسکریننگ یا دیگر اقدامات کے کوئی آثار دکھائی نہ دیے۔ وہاں کی چیک پوسٹ پر موجود افسران کا کہنا تھا کہ وہ کسی کورونا وائرس سے واقف نہیں ہیں۔ اس اسٹیشن کے سروس کاؤنٹر پر موجود وانگ لیو نامی خاتون کا کہنا تھا کہ اسے اس قسم کے حالات کا علم نہیں۔

 

ع ش / ع ا ( خبر رساں ادارے)

DW.COM