دنیا کو ’خطرناک وقت‘ کا سامنا ہے | معاشرہ | DW | 29.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

دنیا کو ’خطرناک وقت‘ کا سامنا ہے

مشرقی تیمور کے سابق صدر اور وزیر اعظم جوزے راموس ہورتا نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ’خطرناک وقت‘ کا سامنا ہے، جس کی مثال کشمیر کی صورتحال سے بھی واضح ہوتی ہے۔

جرمن شہر لنڈاؤ میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس 'مذاہب برائے امن‘ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے مشرقی تیمور کے سابق صدر اور وزیر اعظم جوزے راموس ہورتا نے زور دیا ہے کہ دنیا میں جاری تنازعات اور جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے مکالمت انتہائی ضروری ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والی اس چار روزہ کانفرنس میں سو سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد علما، دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ہورتا نے کہا، '' دنیا کو اس وقت خطرناک وقت کا سامنا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کو دیکھیے۔ کسی بھی طرف سے تھوڑا سا غلط اندازہ ایک کھلے تنازعے کا رنگ اختیار کر سکتا ہے۔‘‘

نوبل امن انعام یافتہ ہورتا نے مزید کہا کہ افغانستان میں ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی ہے، ''اس شورش زدہ ملک کے عوام مصائب کا شکار ہیں۔  تقریبا دو عشرے بیت گئے لیکن یہ تنازعہ ختم نہیں ہو سکا ہے۔‘‘

انہتر سالہ ہورتا سن دو ہزار سات تا دو ہزار بارہ تک مشرقی تیمور کے صدر رہے تھے جبکہ سن دو ہزار چھ تا سات وہ ملکی وزیر اعظم کے منصب پر بھی براجمان رہے تھے۔

مشرقی تیمور کے تنازعے کے پرامن حل کی کوششوں کے صلے میں ہورتا اور ان کے ہم وطن بشپ کارلوس بیلو کو سن انیس سو چھیانوے میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

بیس برس قبل تیس اگست سن انیس سو ننانونے کو مشرقی تیمور میں کرائے گئے ایک عوامی ریفرنڈم میں عوام نے انڈونیشیا سے آزادی کے حق میں فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد مشرقی تیمور میں شورش شروع ہو گئی تھی۔ تاہم ہورتا اور دیگر ملکی رہنماؤں کی کوششوں کی وجہ سے یہ تنازعہ پر امن طریقے سے حل ہوا اور آزادی کے بعد مشرقی تیمور اور انڈونیشیا کے مابین دوستانہ باہمی تعلقات بھی استوار ہوئے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ہورتا کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے متعدد خطوں میں تنازعات اور جنگی حالات انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں عالمی رہنماؤں کو تناؤ کے بجائے مکالمت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ اس تناظر میں انہوں نے شام، جنوبی کوریا اور میانمار میں روہنگیا مسلم اقلیتی آبادی کا تذکرہ بھی کیا۔

ہورتا کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار اس دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں اور جب کوئی ملک انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ہمسائے ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

سابق صدر ہورتا نے کہا، '' مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ستر کی دہائی میں بھارت نے پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو تب پاکستانی وزیر اعظم بھٹو نے کہا تھا کہ وہ بھی جوہری ہتھیار ضرور حاصل کریں گے، چاہیں انہیں (عوام کو) گھاس ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔‘‘

ہورتا کے مطابق حقیقی طور پر دنیا میں مسائل بڑے اور شدید ہیں اور ان کے فوری حل کی کوئی توقع نہیں۔ تاہم مکالمت ہی ایک ایسا طریقہ ہے، جس کی بدولت مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic