دنیا سے پولیو کے خاتمے کی راہ میں پاکستان رکاوٹ | معاشرہ | DW | 19.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

دنیا سے پولیو کے خاتمے کی راہ میں پاکستان رکاوٹ

دنیا سے پولیو کے خاتمے کی راہ میں پاکستان اور افغانستان آخری رکاوٹ ہیں۔ رواں برس براعظم افریقہ سے بھی پولیو کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور اب یہ وائرس فقط ان دو ممالک میں باقی ہے۔

پاکستانی  صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے رہائشی چالیس سالہ رؤف خان اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے پولیوکی وجہ سے اپاہج ہو جانے کا الزام خود پر عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری بچی کبھی نہیں چل پائے گی، تو میں اس صدمے سے مرنے والا تھا۔‘‘

پولیو رضاکاروں کا بھی کوئی سوچے گا؟

ویکسین محفوظ ہے یا نہیں؟ عوامی عدم اعتماد کیوں؟

گزشتہ برس دسمبر میں ان کی 20 ماہ کی بیٹی ندا رؤف میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ چلتی پھرتی بچی اب بستر پر پڑی ہے اور صحت یابی کا کوئی امکان نہیں۔ خان کے اہل خانہ اپنے آبائی قبائلی علاقے کے سفر کی وجہ سے ندا کو پولیو کی ویکسین نہیں پلا پائے تھے۔

اقوام متحدہ کے سرمایے سے پاکستان میں تقریباﹰ تین لاکھ ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچانے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس مہم کے تحت پانچ برس سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کی ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔

پاکستان اور ہم سایہ ملک افغانستان اب دنیا میں وہ دو آخری ممالک بچے ہیں، جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے۔ گزشتہ برس تک یہ وائرس براعظم افریقہ میں بھی پایا جاتا تھا، تاہم رواں برس اس براعظم سے اس وائرس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 05:23

کورونا وائرس کے خوف سے پولیو مہم بھی متاثر

220 ملین آبادی والے پاکستان میں سن 2017 میں یہ وائرس اپنے خاتمے کے نہایت قریب تھا کہ جب وہاں پورے سال میں فقط آٹھ نئے کیسز ریکارڈ کیے گیے تھے۔ 2014 میں پاکستان میں تین سو چھ کیسر ریکارڈ کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد ملک کے شمال مغربی علاقے میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں بچوں تک پولیو ویکسین پہنچنے کے بعد پولیو کیسز میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے سن 2012 میں پولیو ویکسین پلانے کی خدمت پر مامور قریب 80 ہیلتھ ورکرز کو مختلف واقعات میں قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں مذہبی طبقات کی جانب سے بھی پولیو ویکسینیشن کے خلاف بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ برس پاکستان میں پولیو کے 147 نئے کیسر سامنے آئے تھے، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کرے اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائے۔

ع ت، ع س (روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی)