1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دنیا بھر میں 120 ملین انسان بے گھر، اقوام متحدہ

13 جون 2024

اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں مجبوراً بے گھر ہو جانے والے انسانوں کی تعداد 120 ملین کی ریکارڈ حد تک پہنچ گئی ہے، جو پوری عالمی آبادی کا 1.5 فیصد بنتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4gzV4
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا کہ جب تک بین الاقوامی جغرافیائی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ان اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہوتا ہی دکھائی دے رہا ہے‘
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا کہ جب تک بین الاقوامی جغرافیائی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ان اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہوتا ہی دکھائی دے رہا ہے‘تصویر: Omar Albam/DW

اقوام متحدہ نے جمعرات 13 جون کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ سن 2023 کے آغاز سے مئی 2024 تک عالمی سطح پر ریکارڈ 120 ملین انسان مجبوراﹰ بے گھر ہو گئے۔

دنیا بھر میں گیارہ کروڑ افراد بے گھر ہیں، اقوام متحدہ

یہ نئے اعداد و شمار اقو ام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس میں دنیا بھر میں پناہ گزینوں، پناہ کے متلاشی انسانوں، اندرون ملک بے گھر ہو جانے والوں اور بے وطن افراد کی تعداد کا پتہ لگانے سے متعلق ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

تنازعات کے سبب نقل مکانی

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''سال 2023 کے اواخر تک ایک اندازے کے مطابق 117.3 ملین افراد جبراﹰ بے گھر ہوئے۔ یہ لوگ ظلم و زیادتی، تنازعات، تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور امن عامہ کو متاثر کرنے والے سنگین واقعات کے سبب اپنے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے۔‘‘

اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ رواں برس مئی تک عالمی سطح پر بے گھر ہو جانے والے افراد کی تعداد 120 ملین ہو گئی تھی جو کہ سن 2022 کی تعداد سے تقریباً دس فیصد زیادہ ہے اور دنیا کی مجموعی آباد ی کا 1.5 فیصد بنتا ہے۔

ہائی کمشنر فیلیپوگرانڈی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''تنازعات نقل مکانی کا ایک بہت بڑ امحرک ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''جب تک بین الاقوامی جغرافیائی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، بدقسمتی سے، مجھے ان اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہوتا ہی دکھائی دے رہا ہے۔‘‘

گرانڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ''اس سال، مسلسل بارہویں سال، پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ  114 ملین سے بڑھ کر 120 ملین ہو گئی ہے۔ اس تعداد کے پیچھے بہت سے انسانی المیے ہیں، جنہیں صرف یک جہتی اور ٹھوس اقدامات سے ہی کم اور ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

1.7 ملین باشندے یا 75 فیصد سے زیادہ فلسطینی آبادی اپنے آبائی خطے میں ہی بے گھر ہو چکی ہے
1.7 ملین باشندے یا 75 فیصد سے زیادہ فلسطینی آبادی اپنے آبائی خطے میں ہی بے گھر ہو چکی ہےتصویر: Mohammed Talatene/dpa/picture alliance

کن اسباب کے باعث سب سے زیادہ نقل مکانی؟

اس رپورٹ میں دنیا بھر میں ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تنازعات اور تشدد کے سبب لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے۔ سوڈان میں اپریل 2023 میں شروع ہونے والی لڑائی کو ''دنیا کے سب سے بڑے انسانی اور نقل مکانی کے بحران‘‘ میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے دسمبر 2023 تک چھ ملین سے زیادہ انسان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینی شہری آبادی کو بھی تباہ کن نقصان پہنچایا اور 1.7 ملین باشندے یا 75 فیصد سے زیادہ فلسطینی آبادی اپنے آبائی خطے میں ہی بے گھر ہو چکی ہے۔

عرب ممالک فلسطینیوں کی نئی نقل مکانی سے خوف زدہ

فلسطینیوں کے لیے اقو ام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے مطابق اس وقت تقریباً 60 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال اس کے ذمے ہے اور ان میں سے 16 لاکھ غزہ پٹی میں رہ رہے ہیں۔

میانمار، افغانستان، یوکرین، عوامی جمہوریہ کانگو، صومالیہ، ہیٹی، شام اور آرمینیا ان ممالک میں شامل ہیں، جہاں تنازعات اور تشدد کے سبب لوگوں کو دوسری جگہوں پر پناہ لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔

اس رپورٹ میں اس مفروضے کی بھی تردید کی گئی ہے کہ مہاجرین زیادہ تر امیر ممالک کا رخ کرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 75 فیصد مہاجرین اور تارکین وطن نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کا رخ کیا۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پناہ کی تمام نئی درخواستوں میں سے نصف صرف پانچ ممالک میں موصول ہوئیں۔ امریکہ ان میں سرفہرست ہے، جہاں 1.2ملین لوگوں نے درخواستیں دیں۔ اس کے بعد جرمنی، مصر، اسپین اورکینیڈا کے نام آتے ہیں۔

غزہ کے متاثرین کی حالت زار

ج ا/ م م (کیئرن برک)

اس رپورٹ میں اے ایف پی اور ڈی پی اے کا مواد استعمال کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/4gyg6