دنیا بھر میں ملحدوں اور ناستکوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا | معاشرہ | DW | 13.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

دنیا بھر میں ملحدوں اور ناستکوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا

ایک نئی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت مخصوص مذہبی گروپوں، ملحدوں اور ناستکوں کو بہت سے معاشروں میں مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے اور اکثریتی آبادی کے مذہبی حلقے انہیں مرکزی سماجی دھاروں سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

لندن کی ایک بس پر ناستکوں کی ایک تنظیم کی طرف سے تعاون کے بعد لگایا گیا ایک پوسٹر

لندن کی ایک بس پر ناستکوں کی ایک تنظیم کی طرف سے تعاون کے بعد لگایا گیا ایک پوسٹر

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم پِیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے پیر بارہ اگست کی رات جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کی طرف سے دو درجن کے قریب ممالک میں کسی بھی مذہب کے نہ ماننے والوں، خدا کے وجود سے انکار کرنے یا اس بارے میں شبہات کا شکار افراد کے علاوہ مخصوص مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے بارے میں جو تحقیق کی گئی، اس کے نتائج پریشان کن تھے۔

اس ریسرچ سینٹر کے مطابق مجموعی طور پر یہ تحقیق 23 ممالک میں کی گئی اور دیکھا گیا کہ ان ریاستوں میں ملحدوں، ناستکوں اور مخصوص مذہبی اقلیتی گروپوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو نہ صرف مسلسل بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ انہیں مختلف شکلوں میں اکثریتی آبادی کی طرف سے تعاقب کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

اس دوران دیکھا گیا کہ ان دو درجن کے قریب ریاستوں میں ایسے انسانوں پر سماجی دباؤ، تنقید اور ان کا تعاقب کرنے کے واقعات میں 2017ء میں 2016ء کے مقابلے میں کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ان میں سے نو ممالک میں تو یہ اضافہ بہت ہی واضح اور پریشان کن تھا۔

Atheisten Flash-Galerie Treppe zum Himmel

بہت سے انسان زمین اور آسمان کے مابین ممکنہ ربط کو سمجھنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں اور کچھ سائنس کا

'غیر مذہبی انسان‘

اس رپورٹ میں لادین افراد، ملحدوں اور ناستکوں کے لیے جو اجتماعی اصطلاح استعمال کی گئی، وہ 'غیر مذہبی‘ افراد کی اصطلاح تھی۔ پِیو ریسرچ سینٹر کے ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر غیر مذہبی انسانوں کو اپنے خلاف نہ صرف زیادہ ہوتے جا رہے زبانی حملوں کا سامنا ہے بلکہ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جس میں قتل تک کے انتہائی اقدامات بھی شامل ہیں۔ م‍زید یہ کہ غیر مذہبی انسانوں کے خلاف یہ رویہ صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ سماجی گروپوں کے طور پر بھی اپنایا جاتا ہے۔

جن نو ممالک میں اس رجحان میں واضح اضافہ دیکھا گیا، وہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کی ایسی ریاستیں تھیں، جن میں دنیا کی غیر مذہبی انسانی آبادی کا تین چوتھائی حصہ رہتا ہے۔ اس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ ملائیشیا میں ملحد ہونا ریاستی آئین کے منافی ہے، بنگلہ دیش میں سیکولر یا لادین نظریات کی نمائندگی کرنے والے انسانوں کو شدت پسند مسلم گروپوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے اور ان میں سے کئی تو قتل بھی کیے جا چکے ہیں۔

امریکا میں بھی صورت حال خراب

اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں بھی، جو آبادی کے لحاط سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے، ملحدوں اور ناستک انسانوں پر دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ خود امریکا ہی کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء میں وہاں 2016ء اور 2015ء کے مقابلے میں مذہبی بنیادوں پر نفرت کے کہیں زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

Bangladesch Dhaka Protest von Islamisten

ڈھاکا میں انتہا پسند مسلمانوں کے ایک مظاہرے کے دوران زمین پر بنائی گئی تلوار اور سڑک پر لکھا گیا نعرہ: ’اسام کے مخالفین کو پھانسی دو‘

Pew ریسرچ سینٹر کی طرف سے 2012ء سے مختلف ممالک میں اس بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے کہ وہاں ملحدوں، ناستکوں اور چھوٹے مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے ساتھ کس طرح کے رویے اختیار کیے جاتے ہیں۔ آج سے سات سال قبل ایسے ممالک کی تعداد صرف تین تھی، جہاں غیر مذہبی انسانوں کو سماجی دباؤ کا سامنا تھا۔

غیر مذہبی انسان عالمی آبادی کا سولہ فیصد

واشنگٹن میں قائم اس مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مذہبی طور پر غیر جانبدار یا غیر مذہبی انسانوں کا تناسب تقریباﹰ 16 فیصد بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا کے دو بہت بڑے مذاہب مسیحیت اور اسلام ہیں۔

عالمی آبادی میں مسیحیوں کا تناسب اس وقت 31 فیصد اور مسلمانوں کا تناسب 25 فیصد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں ہر دس میں سے تین انسان کسی نہ کسی مسیحی فرقے کے مذہبی پیروکار ہیں جب کہ ہر چوتھا انسان ایک مسلمان ہے۔

م م / ش ح / کے این اے

DW.COM