دنیا بھر میں خوراک کافی لیکن بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوکے | حالات حاضرہ | DW | 15.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دنیا بھر میں خوراک کافی لیکن بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوکے

بھوک سے متعلق تازہ ترین ورلڈ انڈیکس کے مطابق بہت سے مسلح تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پر بھوک میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ کرہ ارض پر آج بھی بیاسی کروڑ سے زائد انسانوں کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔

گزشتہ تین برسوں میں دنیا میں بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں دو کروڑ سے زائد کا اضافہ ہوا

گزشتہ تین برسوں میں دنیا میں بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں دو کروڑ سے زائد کا اضافہ ہوا

عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں غیر سرکاری جرمن تنظیم 'وَیلٹ ہُنگر ہِلفے‘ یا 'ورلڈ ہَنگر ہیلپ‘ (WHH) کی طرف سے منگل پندرہ اکتوبر کو جاری کردہ 'ورلڈ ہَنگر انڈیکس‘ کے مطابق آج کی دنیا میں بھی 822 ملین یا 82 کروڑ سے زائد انسان ایسے ہیں، جنہیں بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔

اگرچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیا میں کوئی بھی انسان بھوکا نہ سوئے لیکن ماضی میں اس عالمی مسئلے پر قابو پانے کے لیے جو بھی کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں، وہ آج بھی جگہ جگہ پائے جانے والے مسلح تنازعات، جنگوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباﹰ ضائع ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جدید تر دنیا میں بھی بھوک مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔

بھوک ختم کی جا سکتی ہے

'ورلڈ ہَنگر ہیلپ‘ کے ایک مرکزی عہدیدار فریزر پیٹرسن نے یہ عالمی انڈیکس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ آج کی دنیا میں سائنسی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور بہتر مالیاتی امکانات کے باعث یہ ممکن ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا، ''سن 2000ء سے لے کر آج تک دنیا میں مسلسل کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھوک میں تقریباﹰ 31 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کے تقریباﹰ سبھی ممالک اور خطوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔‘‘

تینتالیس ممالک میں صورت حال سنجیدہ

فریزر پیٹرسن کی تنظیم اپنے پارٹنر ادارے 'کنسرن ورلڈ وائڈ‘ کے ساتھ مل کر ہر سال 'ورلڈ ہَنگر انڈیکس‘ جاری کرتی ہے۔ انہوں نے سال 2019ء کے لیے یہ انڈیکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وسطی افریقی جمہوریہ دنیا کا وہ ملک ہے، جہاں 2017ء سے بھوک کا مسئلہ انتہائی حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ چار دیگر ممالک یمن، چاڈ، مڈغاسکر اور زیمبیا وہ ممالک ہیں، جہاں بھوک کے مسئلے کی شدت تشویش ناک ہے۔

پیٹرسن کے مطابق دنیا کے جن ممالک اور خطوں میں آج بھی وسیع پیمانے پر بھوک پائی جاتی ہے، وہاں اس کی بڑی وجوہات میں جنگیں، مسلح تنازعات اور ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ مزید یہ کہ اس انڈیکس کی تیاری کے لیے دنیا کے جن 117 ریاستوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے گئے، ان میں سے 43 ممالک میں بھوک کے مسئلے کی صورت حال 'سنجیدہ‘ پائی گئی۔

Jemen Hunger Symbolbild Kind in Sanaa

جنگ زدہ یمن میں خطرناک حد تک غذائیت کی کمی کا شکار ایک نچہ

دنیا میں ہر نو میں سے ایک انسان بھوکا

اس نئے عالمی انڈیکس کے مطابق دنیا میں اس وقت جو 822 ملین انسان بھوک کا شکار ہیں، ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی آبادی میں ہر نو میں سے ایک انسان کو اس مسئلے کا سامنا ہے۔

اس سے بھی پریشان کن بات یہ ہے کہ صرف تین برس قبل 2016ء میں یہ مجموعی تعداد 800 ملین سے بھی کم تھی۔ دوسرے لفظوں میں گزشتہ تین سال کے دوران بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں کم از کم بھی دو کروڑ سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

دنیا میں بھوک کے مسئلے سے متعلق عالمی انڈیکس 2006ء سے ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کے تمام ذیلی اداروں کے وہ اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں، جو ماضی کے حالات کے علاوہ مستقبل کے امکانات کا احاطہ بھی کرتے ہیں اور جن میں بھوک، اشیائے خوراک کی دستیابی اور بچوں میں شرح اموات سمیت بہت سے شعبوں کا ڈیٹا ریکارڈ ہوتا ہے۔

ہَیلے ژیپےسن (م م / ع ح)

DW.COM