دفاعی بجٹ: ’قوم مضبوط ہو گی تو دفاع بھی مضبوط ہو گا‘ | حالات حاضرہ | DW | 12.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دفاعی بجٹ: ’قوم مضبوط ہو گی تو دفاع بھی مضبوط ہو گا‘

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی سالانہ میزانیے کے موقع پر دفاعی بجٹ کے موضوع پر ملک کے اقتصادی اور دفاعی تجزیہ نگار دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

ایک موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کا سامنا کرنے والے ملک پاکستان کو بھارت، افغانستان اور ایران کی طرف سے جن سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر دفاعی بجٹ کے لیے دفاعی ضروریات کے مطابق رقوم فراہم کی جانی چاہیئں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے اس لیے پاکستان کو اپنی اقتصادی ترجیحات اپنے حالات کے مطابق ہی طے کرنی چاہیئں۔

اس سال وفاقی حکومت نے دفاعی بجٹ کے لیے 1152 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو کہ کم و بیش پچھلے سال کے دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔ یہ رقم مجموعی بجٹ کا چودہ فیصد اور جی ڈی پی کا دو اعشاریہ چھ فی صد بنتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس بجٹ میں سیویلین مد سے ادا کی جانے والی سابق فوجیوں کی پینشنز، ڈیفنس پروڈکشن کے کئی ترقیاتی منصوبے اور مستقبل میں لی جانے والی سیپلیمنٹری گرانٹس شامل نہیں ہوں گی۔

پاکستان کے ایک ممتاز معاشی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مطابق پچھلے سال ابتدائی طور پر دفاع کے لیے 1100 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن بعدازاں مزید اخراجات کی وجہ سے اس میں 37 ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ پچھلے سال کا دفاعی بجٹ اس وقت کے بجٹ کے کل حجم کا اٹھارہ اعشاریہ پانچ فی صد تھا اور یہ اس وقت کے جی ڈی پی کا دو اعشاریہ آٹھ فی صد تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں برس پاک فوج نے ملکی معاشی صورت حال کو دیکھتے ہوئے رضاکارانہ طور پر، دفاعی صلاحیت پر سمجھوتہ کیے بغیر، دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

Pakistan Nationalfeiertag 2019 in Islamabad | Shaheen II Rakete (Getty Images/AFP/F. Naeem)

اس سال وفاقی حکومت نے دفاعی بجٹ کے لیے 1152 ارب روپے مختص کیے ہیں

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز(لمز) کے شعبہ معاشیات کے استاد ڈاکٹر فیصل باری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ خطے کی صورتحال اور سخت گیر ہمسائیگی کے پیش نظر پاکستان میں دفاع کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق دفاعی بجٹ کے منجمد ہونے کے باوجود روپے کی قیمت میں کمی اور نو دس فی صد افراط زر کی وجہ سے دفاعی بجٹ پر اس کے اثرات کافی نمایاں ہوں گے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیفنس بجٹ کو تو صرف فریز کیا گیا ہے لیکن ہائیر ایجوکیشن اور کئی دوسرے اہم شعبوں کی طرف تو باقاعدہ کٹ لگایا گیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل باری کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ بجٹ میں مختص کی جانے والی رقوم کا نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی ترجیحات پر بحث و مباحثہ نہ ہو سکنے اور اس پر اتفاق رائے نہ ہونے کا ہے، ’’اب ڈیفنس بجٹ میں کیا اور کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے اس پر شاید ملک کی پارلیمنٹ بھی کھل کر بات نہیں کر سکتی۔‘‘

دفاعی تجزیہ نگار کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے بتایا کہ ملکی سالمیت کسی بھی ملک کی پہلی ترجیح ہوتی ہے، ان کے بقول پاکستان کو اس وقت اپنے سے سات گنا بڑے ملک کی آرمی سے مقابلہ درپیش ہے۔ ایسے حالات میں ملکی بقا کے لیے ملکی دفاع اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس لیے بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعد جب بھی ملکی دفاع کے لیے وسائل کی ضرورت پڑتی ہے حکومت ہمیشہ مدد کرتی ہے۔

اقتصادی تجزیہ نگار خالد محمود رسول کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے مشکل معاشی حالات میں ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ اس کے ذمہ دارانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی، لاقانونیت اور بدامنی کے جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں کمی کا بیانیہ آگے بڑھانا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ ان کے نزدیک پاکستانی فوج نے پچھلے آٹھ دس برسوں میں ملنے والے بجٹ سے سیکورٹی انفراسٹرکچر اور ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے شعبوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر لیا ہے۔ آرمی کو خود ہی یہ فیصلہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ مشکل معاشی حالات میں قومی دفاعی صلاحیت پر سمجھوتہ کیے بغیر دستیاب وسائل کا سمارٹ انداز میں موثر استعمال کیسے یقینی بنا سکتی ہے؟

اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ دفاع کا معیشت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ معیشت بہتر نہ ہو تو سوویت یونین جیسا ملک بھی بکھر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کا شمار دنیا بھر میں اپنی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا سب سے کم حصہ تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے لیکن پاکستان اپنی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا جتنا تناسب دفاع پر خرچ کر رہا ہے، وہ بھارت سمیت کئی دوسرے ملکوں کے ایسے تناسب سے زیادہ ہے، ’’ہمارے 23 میلین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہیں تعلیم اور روزگار نہ مل سکا اور وہ خدا نخواستہ دہشت گردی کی طرف چلے گئے تو ملک کے اندر سکیورٹی کی صورتحال بہت متاثر ہو گی۔‘‘

ڈاکٹر شاہد کے بقول پاکستان اور بھارت ایٹمی ممالک ہیں ان میں اب جنگ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بھارت سرحدوں پر تناؤ پیدا کر کے اور پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر چاہے گا کہ ہم اپنے وسائل ترقیاتی شعبوں کی طرف نہ لگائیں۔ لیکن ہمیں ویلفئر اسٹیٹ بننے کی طرف جانا ہوگا۔ قوم مضبوط و توانا ہو گی تو معیشت بھی بہتر ہوگی۔ ملک بھی ترقی کرے گا اور دفاع بھی مضبوط ہوگا۔