’دعائیں ہی سب سے موثر دوا ثابت ہوں گی‘ | حالات حاضرہ | DW | 28.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’دعائیں ہی سب سے موثر دوا ثابت ہوں گی‘

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری آئندہ ہفتے لندن میں ہوگی۔ اس امر کی تصدیق اُن کے اہل خانہ نے کر دی ہے۔ وہ علاج کے لیے گزشتہ ویک اینڈ پر لندن پہنچے تھے۔

سیاسی مسائل سے دوچار اور پاناما پیپرز کے انکشافات کے غیر معمولی دباؤ میں آئے ہوئے میاں نواز شریف کا گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ لندن کا دوسرا دورہ ہے جس کے بارے میں میڈیا کو بیان دیتے ہوئے اُن کی صاحب زادی مریم نواز نے جمعے کی شب دیر گئے ایک ٹوئیٹ پر اپنے پیغام میں تحریر کیا،’’وزیر اعظم نواز شریف کی آئندہ منگل کو ہارٹ سرجری ہوگی۔ اُن کے لیے دعائیں ہی سب سے زیادہ موثر دوا ثابت ہوں گی۔‘‘

مریم نواز نے اپنے والد کو لاحق عارضہ قلب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2011 ء سے انہیں دل کی بیماری کی پیچیدگیوں کا سامنا ہے جسے دور کرنے کے لیے معالجے کا عمل جاری ہے۔

وزير اعظم نواز شريف کی صاحب زادی مریم نواز

وزير اعظم نواز شريف کی صاحب زادی مریم نواز

دریں اثناء مقامی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی صحت کی صورتحال کے پیش نظر گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اپنی کئی سیاسی سرگرمیاں اور ملکی اور غیر ملکی دورے بھی منسوخ کر دیے ہيں۔ مثال کے طور پر چند دن قبل پاکستانی فضائیہ میں نئے طیاروں کی شمولیت اور تھر کول منصوبے کے حوالے سے اہم تقریبات میں شرکت کے لیے اُن کا کراچی کا دورہ اور کچھ عرصے قبل ترکی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے بھی اُن کا دورہ منسوخ ہو گیا تھا۔ اس اہم اجلاس کے موقع پر پاکستان کی نمائندگی صدر ممنون حسین نے کی تھی۔ اُدھر پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات کے لیے امریکا جانا تھا لیکن وزیر خزانہ کا دورہ بھی غالباً وزیر اعظم کی صحت کی صورتحال کے سبب منسوخ کر دیا گیا۔

نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے کہا ہے کہ اُن کے والد ہارٹ سرجری کے بعد کم از کم ایک ہفتے لندن میں ہسپتال میں رہیں گے اور صحت یابی اور ڈاکٹروں کی طرف سے سفر کی اجازت ملتے ہی وطن لوٹ جائیں گے۔