دریاؤں پر بننے والے ڈیم انسان اور ماحول کے لیے نقصان دہ | سائنس اور ماحول | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دریاؤں پر بننے والے ڈیم انسان اور ماحول کے لیے نقصان دہ

60 اور 70 کے عشروں میں ڈیموں کی تعمیر بہت مقبول ہوئی تھی۔ نو آبادیاتی دور کے بعد ترقی پذیر ممالک ڈیموں کو اپنی عظمت کی علامت سمجھتے تھے۔ آج حالات مختلف ہیں اور خصوصاً ماحول پسند ڈیموں کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

دنیا بھر میں ڈیموں کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے کئی ایک گزشتہ کئی برسوں سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں۔ چالیس پچاس سال پہلے کے مقابلے میں آج ماحول پسند تنظیمیں ڈیموں کی تعمیر کی شدید مخالفت کرتی ہیں۔ ڈیموں کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے متعارف کروائے جانے والے نئے طریقے بھی ماحول پسندوں کو مطمئن نہیں کر پا رہے ہیں۔

بھارت اور برازیل جیسے ممالک کی حکومتیں ڈیموں کی تعمیر اور وہاں جمع پانی کی مدد سے بجلی کے حصول کی زبردست حامی ہیں۔ اِس کے برعکس ان بڑے منصوبوں کے ناقدین ڈیموں کو انسانوں کے فائدے کے لیے ماحول پسند توانائی فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔

ان ناقدین نے حال ہی میں فرانس کے شہر مارسے میں منعقدہ ورلڈ واٹر فورم کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے۔ اپنے نعروں میں ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ دریا زندگی کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ ڈیموں کے لیے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ ان ڈیموں کی تعمیر کے دوران وسیع و عریض رقبے پر پھیلے جنگلات تلف کر دیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ مصنوعی جھیلیں اور ڈیم ایک طرح سے دریاؤں کا سارا پانی چُوس لیتے ہیں، جس کا نتیجہ مچھلیوں اور دیگر انواع کی ہلاکت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان ڈیموں کے آس پاس واقع بستیوں کے باسیوں اور کاشتکاروں کو اُن کے کھیتوں سمیت جبراً کہیں اور لے جا کر بسا دیا جاتا ہے۔

2006ء میں بھارت میں مون سون کی بارشوں کے بعد Kadana ڈیم کناروں سے بہہ نکلا

2006ء میں بھارت میں مون سون کی بارشوں کے بعد Kadana ڈیم کناروں سے بہہ نکلا

ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق دُنیا بھر میں اس طرح سے بے دخل کیے جانے والے انسانوں کی تعداد 80 ملین کے لگ بھگ ہے۔ سن 2011ء میں غیر سرکاری تنظیموں، حکومتی نمائندوں، آجرین اور ترقیاتی بینکوں نے مل کر ایک دستاویز منظور کی تھی، جس کا مقصد ڈیموں کو ماحول دوست بنانا تھا۔

جہاں انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کے ناظم الامور رچرڈ ایم ٹیلر اِس دستاویز کو تسلی بخش قرار دیتے ہیں، وہاں فرانسیسی ماحول دوست تنظیم آمی ڈے ٹیر سے وابستہ رانکوں مونابے اس دستاویز کو محض آنکھوں کا دھوکہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں:’’پہلی بات تو یہ کہ اس میں مقرر کردہ معیارات کمزور ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ معیارات کی پاسداری کا کام بھی اُنہی اداروں کے سپرد ہو گا، جنہیں ڈیم تعمیر کرنا ہیں۔ میرے خیال میں یہ معیارات ناکافی ہیں۔‘‘

مختلف ممالک کی حکومتیں طے کردہ بین الاقوامی معاہدوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی زیادہ بڑے ڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو انسانوں اور ماحول کے لیے زیادہ بڑے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان بڑے بڑے منصوبوں کے اگر کوئی فوائد ہوتے بھی ہیں تو وہاں آس پاس بسنے والے انسان اُن سے محروم ہی رہتے ہیں۔ ماحول پسند حلقوں کا مطالبہ ہے کہ پانی کی بجائے ہوا اور سورج سے توانائی کے حصول پر زیادہ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

رپورٹ:مونیکا ہوئیگن / امجد علی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM