داعش کے غیرملکی جنگجو موصل سے فرار ہو رہے ہیں، امریکی جنرل | حالات حاضرہ | DW | 07.03.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے غیرملکی جنگجو موصل سے فرار ہو رہے ہیں، امریکی جنرل

عراقی فورسز نے مغربی موصل میں صوبائی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیر اعظم بھی اس آپریشن کی پیش رفت دیکھنے کے لیے موصل پہنچ گئے ہیں۔

عراقی فورسز نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل کے مغربی حصے میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکی عسکری حکام کے مطابق داعش کے غیرملکی عسکریت پسند یہ علاقہ چھوڑ کر فرار ہونے کی کوششوں میں ہیں۔ موصل کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے اس فوجی آپریشن کا آغاز انیس فروری کو کیا گیا تھا لیکن خراب موسم اور داعش کی طرف سے مزاحمت کے بعد اس میں پیش رفت سست روی کا شکار ہو گئی تھی۔

اتوار کے روز سے عراقی فورسز اس حصے پر قبضے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ مغربی موصل میں جاری اس جنگ کی وجہ سے تقریباﹰ پچاس ہزار افراد یہ علاقہ چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

دریں اثناء عراقی فورسز نے اس میوزیم پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جہاں داعش کے عسکریت پسندوں نے قیمتی نوادرات کو تباہ کرتے ہوئے ویڈیوز بنوائی تھیں۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی بھی ملکی سکیورٹی فورسز کی طرف سے پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے موصل پہنچ گئے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم ملکی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔

Irak Kämpfe gegen IS in Mossul (Reuters/G. Tomasevic)

مغربی موصل میں جاری اس جنگ کی وجہ سے تقریباﹰ پچاس ہزار افراد یہ علاقہ چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں

عراقی فورسز کو اپنے اس فوجی مشن میں امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کی عسکری حمایت بھی حاصل ہے۔ زیادہ تر فضائی حملے امریکی فضائیہ کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جبکہ امریکی فوجی مشیر بھی اگلے مورچوں میں عراقی فورسز کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

امریکا کے اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی موصل میں داعش کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت غیرمنظم ہے اور غیر ملکی جنگجو وہاں سے فرار ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے بریگیڈیئر جنرل میتھیو آئیلر کا نیوز ایجنسی روئٹرز  سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومتی فورسز  کو شہر میں ’’سخت مزاحمت‘‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن وہ غالب آ جائیں گی۔

موصل کو دریائے دجلہ نے تقسیم کر رکھا ہے۔ عراقی فورسز نے تین ماہ سے زائد کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مغربی حصے پر تو قبضہ کر لیا تھا لیکن دریائے دجلہ کی دوسری جانب مغربی حصے کا کنٹرول ابھی تک داعش کے ہاتھوں میں ہے۔ امریکی جنرل کا کہنا تھا، ’’کھیل ختم ہو چکا ہے۔ وہ اپنی جنگ ہار چکے ہیں اور جو آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں، وہ وقت حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔‘‘

امریکی کمانڈر کے مطابق مغربی موصل کی لڑائی سے پہلے ہی داعش کے متعدد آپریشنل لیڈر مار دیے گئے تھے۔ داعش کے خودکش حملہ آوروں کو ابھی بھی خطرہ تصور کیا جا رہا ہے لیکن اب فی الحال ایسے دس حملہ آوروں میں سے ایک ہی کامیاب ہو رہا ہے۔

DW.COM

اشتہار