داعش نے کلیسا کو مسجد میں بدلنے کے بعد نام بھی بدل دیا | معاشرہ | DW | 24.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

داعش نے کلیسا کو مسجد میں بدلنے کے بعد نام بھی بدل دیا

شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ یا داعش نے عراقی شہر موصل میں شامی آرتھوڈوکس کلیسا کے جس کیتھڈرل کو جبراﹰ مسجد میں تبدیل کر دیا تھا، اب اس کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔

default

آئی ایس کے جہادی موصل میں اب تک متعدد کلیساؤں پر قبضہ کر چکے ہیں: موصل کے ایک کلیسا کی داعش کے قبضے سے پہلے کی تصویر

جرمن شہر فرینکفرٹ سے موصولہ مسیحی خبر رساں ادارے epd کی پیر چوبیس اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق موصل میں اس شامی آرتھوڈوکس کلیسا کا نام مار افرام (Mar-Afram) کیتھیڈرل تھا، جسے اسلامک اسٹیٹ یا آئی ایس کے جہادیوں نے گزشتہ برس قبضے کے بعد ایک مسجد قرار دے دیا تھا اور وہاں سے مسیحیت کی علامت کے طور پر تمام صلیبیں بھی ہٹا دی گئی تھیں۔

اب لیکن اسی کیتھڈرل کو ’مار افرام‘ کی بجائے ’ارض الخلیفہ‘ یا ’خلیفیہ کی زمین‘ کا نیا نام بھی دے دیا گیا ہے۔ ای پی ڈی کی رپورٹوں کے مطابق داعش کے زیر اثر علاقوں میں غیر مسلم عبادت گاہوں کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کرنے اور نئے نام دیے جانے کی اس تازہ ترین مثال کی تصدیق آج پیر کے روز جرمن شہر گوئٹِنگن میں معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار اقوام سے متعلق جرمن تنظیم کے مشرق وسطٰی کے امور کے ایک ماہر کمال سیدو نے بھی کر دی۔ کمال سیدو کے بقول داعش کی طرف سے اس سابقہ کیتھیڈرل اور موجودہ مسجد کو ابھی حال ہی میں باقاعدہ طور پر ’ارض الخلیفہ‘ کا نام دے دیا گیا۔

رپورٹوں کے مطابق موصل کا شہر جون 2014ء کے آغاز سے اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے قبضے میں ہے اور اس وقت وہاں آئی ایس کے جہادیوں نے اسی سابق گرجا گھر کی عمارت میں مبینہ طور پر اپنے کافی ہتھیار بھی جمع کر رکھے ہیں۔

کمال سیدو کے مطابق موصل میں ماضی میں مسیحیوں کے جو 35 گرجا گھر موجود تھے، ان میں سے وہاں اب صرف ایک کلیسا ایسا ہے، جو ابھی تک کھلا ہے اور مسیحی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کمال سیدو نے یہ بھی کہا کہ موصل میں کئی مسیحی عبادت گاہیں مسلح لڑائی اور خونریز جھڑپوں کی وجہ سے یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جرمنی میں خطرات کی شکار اقوام کی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2003ء میں عراقی شہر موصل میں مجموعی طور پر 50 ہزار سے زائد مسیحی باشندے آباد تھے۔