1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Bus Explosion
تصویر: REUTERS TV

'داسو بس حملے میں افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں'

13 اگست 2021

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اپر کوہستان کے بم دھماکے میں بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں شامل تھیں۔ تاہم دونوں ممالک نے اس پر رد عمل کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D9%88-%D8%A8%D8%B3-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%AE%D9%81%DB%8C%DB%81-%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D9%86%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D9%84%D9%88%D8%AB-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/a-58852821

پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ ماہ صوبہ خیبر پختونخوا کے اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کی بس پر ایک پاکستانی طالبان نے خود کش حملہ کیا تھا اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور معاشی روابط پسند نہیں ہیں اس لیے وہ تخریبی کارروائیوں پر آمادہ ہیں۔

تاہم بھارت یا افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ان الزامات پر اب تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ عام طور پر بھارت ایسے کسی بھی بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار فوری طور پر کرتا ہے تاہم شاہ محمود قریشی کے بیان پر اب تک خاموش ہے۔   

واضح رہے کہ گزشتہ 14 جولائی کو اپر کوہستان کے ضلع داسو  میں توانائی کے زیر تعمیر ہائیڈرو پلانٹ کے پاس ہی ایک بس پر حملہ ہوا تھا۔ اس بس میں سوار تقریبا دس چینی ورکرز اور تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

 شروعات میں پاکستانی حکام نے اس واقعے کو محض ایک حادثہ قرار دیا تھا پھر  ابتدائی جانچ کے بعد دھماکے کی تصدیق کی گئی تھی اور کہا گيا تھا کہ اس پورے واقعے کی جامع تفتیش کی جائے گی۔

Deutschland, Berlin | Außenminister: Qureshi trifft Maas
تصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے دھماکا خیز مواد سے بھری جو گاڑی استعمال کی گئی تھی وہ بھی افغانستان سے پاکستان لائی گئی تھی۔ ’’جائے حادثہ سے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ڈرائیور کے ملنے والے بعض اعضاءکی تفتیش سے پتا چلا کہ وہ اسی خود کش حملہ اور کا ہے۔‘‘ 

انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری تفتیش کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی اور حملہ کرنے کی تمام پلاننگ کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی ایجنسی این ڈ ی ایس کے درمیان واضح گٹھ جوڑ ہے۔‘‘

نیشنل ڈائریکٹوریٹ سکیورٹی (این ڈی ایس) افغان کی حفیہ ایجنسی ہے جبکہ ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (آر اے ڈبلیو) را بھارتی خفیہ ادارہ ہے۔ ابھی تک ان دونوں ممالک نے پاکستان کے اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے جس نوعیت کے تعلقات ہیں اسی مناسبت سے چین کو صورت حال سے باخبر رکھتے ہوئے اس حملے کی تفتیش کی گئی اور اس میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے۔    

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حملے کی تفتیش کے لیے تقریبا 1400 سو کلو میٹر طویل راستے پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد لی گئی ہے اور تفتیش میں اسی کو بنیاد بنایا گيا ہے۔  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے علاقے سوات میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کو انجام دیا۔

 پریس کانفرنس میں سینیئر پولیس افسر جاوید اقبال بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ اس حملے میں جن پاکستانیوں نے مدد کی انہیں گرفتار کر لیا گيا ہے تاہم اس میں ملوث تین دیگر افراد افغانستان میں موجود ہیں اور ان کی حوالگی کے لیے افغان حکام سے رابطہ کیا گيا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کے تحت دونوں ملک  کسی کو بھی ایک دوسرے کے خلاف اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’اب چونکہ  ہم نے یہ انکشافات کر دیا ہے کہ ان کی سر زمین استعمال کی گئی ہے، تو ہمیں امید رکھتے ہیں کہ اسی سمجھوتے کے تحت  اصولی طور پر وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘ 

پاکستانی ہندوؤں کا بھارتی حکومت سے شکوہ

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kundgebung der Opposition in Pakistan

مریم کی بریت کے ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں