دائیں بازو کی شدت پسندی اور مسلمانوں کا خوف | مکالمہ | DW | 25.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

دائیں بازو کی شدت پسندی اور مسلمانوں کا خوف

جرمن شہر ہالے میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے سے جرمنی میں بڑھتی دائیں بازو کی شدت پسندی واضح ہوتی ہے۔

ہالے شہر میں ایک سیناگوگ پر ہوئے حملے پر جرمن مسلمان دھچکے کا شکار ہو گئے اور انہوں نے جرمنی میں بسنے والی یہودی برادری کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے ارکان بھی جارحانہ معاشرتی رویوں کی شکات کر رہے ہیں۔

دائیں بازو کے شدت پسندوں کی ورچوئل دنیا

ہالے حملہ، مقامی جرمن برادری یہودیوں کے دکھ میں شامل

ہالے شہر میں سیناگوگ پر حملے کی کوشش کوئی اچھوتا واقعہ نہیں ہے۔ جرمن مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے چیئرمین ایمن مزیک کے مطابق ایسے واقعے کے خدشات طویل عرصے سے ظاہر کیے جا رہے تھے۔ ''یہ حملہ جو ہالے شہر میں یہودی برادری کے خلاف کیا گیا، اس شہر کی مسلم برداری پر بھی ہو سکتا تھا۔ مسلمان اور یہودی دونوں دائیں بازو کے شدت پسندوں کا ہدف ہیں۔‘‘

ایمن مزیک نے حملے کا نشانہ بننے والے یہودی مرکز کا دورہ کیا اور یہودیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادریوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔

جرمنی میں مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں اور مسلم مرکزی کونسل کے ارکان پر حملوں کے واقعات بھی ماضی میں پیش آتے رہے ہیں۔ میزک کے مطابق، ''ہالے شہر میں مسلم برادری حالیہ کچھ برسوں میں کئی حملوں کا نشانہ رہی ہے۔ کہیں مساجد کے شیشے توڑ دیے جاتے ہیں کہیں نازی نعرے لکھے ہوتے ہیں اور پچھلے دو حملوں میں تو مسلمانوں پر ایئررائفل سے فائرنگ کی کوشش بھی کی گئی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی میں امن کے ماحول میں ایک خاص تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے اور صرف یہودی ہی نہیں مسلمان بھی ان بدلتے حالات کو محسوس کر رہے ہیں۔

میزک کا کہنا ہے، ‘‘ایسا ماحول بن چکا ہے کہ جارح عناصر نہ صرف کھل کر اقلیتوں کے خلاف بات کر سکتے ہیں بلکہ حملے بھی کر سکتے ہیں۔ ماحول ایسا ہی لگ رہا ہے، جیسے انتہائی دائیں بازو کے دہشت گرد، جیسے کرائسٹ چرچ، اپنے کتابچوں میں لکھ رہے ہیں، اپنے گیتوں میں یہ جارحانہ جملے دوہرا رہے ہیں۔ یعنی تباہ کن بات ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر یہ نفرت انگیز باتیں کر رہے ہیں۔‘‘

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق سن 2018ء میں 910 ایسے واقعات پیش آئے جو اسلاموفوبیا سے جڑے تھے۔ گو کہ سن 2017 کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے تاہم اب بھی صورت حال کوئی بہت بہتر نہیں۔ سن 2017 میں ایسے ایک ہزار پچھتر واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ جرمن وزارت داخلہ کا تاہم کہنا ہے کہ مسلمانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سن دو ہزار اٹھارہ میں اسلاموفوبیو سے جڑے حملوں میں 40 افراد زخمی ہوئے، یہ تعداد سن 2017 میں 32 تھی۔

مسلم کونسل آف مسلمز کا دوسری جانب کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا سے جڑے بہت سے حملے رپورٹ بھی نہیں ہوتے، کیوں کہ ایسی واقعات میں متاثرہ مسلمان اپنے آپ کو سامنے لانے سے ہچکچاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایرفرٹ کے پروفیسر اور اسلامک اسکالر کائی حافظ کے مطابق جرمنی میں پچاس فیصد سے زائد باشندوں میں اسلام کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں، جب کہ تھورنگیا اور سیکسنی جیسے صوبوں میں یہ تعداد ستر فیصد کے قریب ہے۔

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات