خیبر پختونخوا میں کرسمس پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات | حالات حاضرہ | DW | 24.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر پختونخوا میں کرسمس پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا میں کرسمس کے مذہبی تہوار کے موقع پر مقامی مسیحی برادری کے بیاسی گرجا گھروں میں دو سو سے زائد خصوصی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہیں۔

اس موقع پر سلامتی کے انتظامات کے لیے صوبائی حکومت نے ڈھائی ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ مسیحی برادری کے رضاکار، بم ڈسپوزل اسکواڈ،‌سٹی پٹرولنگ پولیس، ریپڈ رسپانس فورس، اینٹی ٹیررازم فورسز اور لی‍ڈی پولیس بھی اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک چرچ پر حالیہ حملے کے بعد پولیس نے اس صوبے میں بھی مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کے لیے سکیورٹی پہلے ہی بڑھا دی تھی تاہم اب کرسمس کے موقع پر یہاں بھی اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان میں کرسمس تقریبات پر خوف کے سائے

’بلوچستان میں سکیورٹی مخدوش لیکن کرسمس کی تیاریاں بھرپور‘

سندھ میں بھی کرسمس کی تیاریاں زوروں پر

خیبر پختونخوا میں ماضی میں دہشت گرد چونکہ کئی مرتبہ مسیحی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، اس لیے صوبائی دارالحکومت پشاور میں گرجا گھروں اور مسیحی برادری کی تقریبات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار بھی حرکت میں لائے گئے ہیں۔ پشاور پولیس کے مطابق ہر چرچ کے قریب یا ارد گرد چھ سے آٹھ تک پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پشاور کینٹ اور بالخصوص شہر میں واقع آل سینٹس چرچ کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جہاں اس مرتبہ اسکینرز اور کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ شہزادہ کوکب فارو‌ق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مسیحی برادری کی تقریبات جاری ہیں، جن کے لیے ہم روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی پلان مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر کرسمس کے ‌دنوں میں بہتر سکیورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں، مسیحی برادری کے رضاکاروں، لیڈیز پولیس، سراغ رساں کتوں اور سٹی پولیس تک ہر طرح کے وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔‘‘

جرمنی میں پانچ لاکھ شمعیں روشن کرنے کا ریکارڈ

کرسمس کے موقع پر معافی، جرمنی میں آٹھ سو سے زائد قیدی رہا

کرسمس  منانے پر انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکیاں

صوبائی حکومت نے جمعے کے دن سے ہی سکیورٹی سخت کر دی تھی اور مسیحی مذہبی اور سماجی مراکز کو جانے والے راستوں پر خصوصی سکیورٹی دستے تعینات کر دیے گئے تھے۔ ان انتظامات پر مقامی مسیحی باشندے کتنے مطمئن ہیں، اس بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان اقلیتی اتحاد کونسل خیبر پختونخوا کے صدر آگسٹین جیکب نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کوئٹہ میں چرچ حملے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ کرسمس کی مذہبی رسومات کا آغاز ہو رہا ہے۔ اب  پہلے کے مقابلے میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہے۔ حکومتی اداروں کی بھی کوشش ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری بھی خواہش ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔‘‘

ادھر خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی صلاح الدین محسود نے صوبے بھر کے ضلعی پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرسمس کی تقریبات کے انتظامات کا خود جائزہ لے کر انہیں ہر سطح پر ’فول پروف‘ بنائیں اور گرجا گھروں کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ لگوا کر پولیس اور رضاکاروں کی مدد سے سخت نگرانی اور ہر کسی کی چیکنگ کو یقینی بنایا جائے۔

جہاں خوشیاں تھیں، وہاں غم بکھرے پڑے ہیں

کوئٹہ: گرجا گھر پر حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کر لی

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جمعہ بائیس دسمبر کے روز مسیحی برادری کی ایک تقریب میں ان ہلاک شدگان کو یاد کیا گیا، جو حال ہی میں کوئٹہ چرچ حملے میں مارے گئے تھے۔ اس تقریب میں سرکاری اہلکاروں اور عمائدین نے بھی شرکت کی۔ کوئٹہ چرچ حملے میں نو افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔

DW.COM

اشتہار