خیبر پختونخوا: اقلیتوں کے مُردوں کی آخری رسومات میں مشکلات | معاشرہ | DW | 31.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خیبر پختونخوا: اقلیتوں کے مُردوں کی آخری رسومات میں مشکلات

خیبر پختونخوا میں لاکھوں ہندو اور سکھ اپنے مذہبی عقائد کے تحت اپنے مُردے جلانے کی بجائے انہیں دفنا دینے پر مجبور ہیں۔ صرف ایک شمشان گھاٹ ہے، جو دریائے کابل کے کنارے واقع ہے اور وہاں تک جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے زیادہ تر اضلاع میں سکھوں اور ہندوؤں کے لئے شمشان گھاٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان اقلیتوں کو اپنے مردے دفن کرنے پڑتے ہیں۔ پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے حدود میں واقع دریائے کابل کے کنارے ایک شمشان گھاٹ موجود ہے لیکن دور دراز کے رہائشی ہندو ہا سکھ بھاری اخرجات کی وجہ سے اپنے مُردوں کو وہاں لانے کی سکت نہیں رکھتے۔ پشاور سمیت بنوں، مردان، ہنگو، ملاکنڈ ڈویژن چارسدہ، صوابی اور کئی دیگر اضلاع میں یہ اقلیتیں اپنی مذہبی رسومات کی بجائے وفات پانے والوں کو دفن کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں آل ہندو رائٹس موومنٹ کے چئیرمین ارون سرب دیال کا ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا، ’’پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آئین کے مطابق اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات کی آزادی ہے لیکن یہ صرف کاغذون تک محدود ہے۔ پاکستان میں ہندوؤں کی سب سے زیادہ پراپرٹی خیبر پختونخوا میں ہے لیکن انہیں اس پر سکول، مندر یا شمشان گھاٹ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح بھارت میں مسلم اقلیتیں مسائل کا سامنا کر رہی ہیں اسی طرح پاکستان میں ہندو اور سکھ مسائل سے دوچار ہیں، ’’ فلا‌ح و بہبود کے لئے بنائی جانے والی سرکاری کمیٹیوں میں ہندو، سکھ یا کرسچیئن کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ رواں سال اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختص پچاس کروڑ روپے کے فنڈز میں سرکاری ادارے نصف سے زیادہ استعمال نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کمی‍ٹویوں میں سول سوسائٹی کے نمائندے نہیں تھے۔‘‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پچاس ہزار غیر مسلم جبکہ خیبر پختونخوا میں سینتالیس ہزار ہندو،ایک لاکھ بیس ہزار عیسائی تقریباﹰ چار ہزار کیلاش اور ساٹھ سے زیادہ بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ ایک عرصے سے ہندو پشاور کے علاقہ بڈھنی میں شمشان گھاٹ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

پشاور کے ایک ہندو رہائشی اجیت کا کہنا تھا، ’’ہمارے مذہب میں مردوں کو دفنایا نہیں جاتا کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم زندہ ہیں اور اس لئے ہم اپنے مردوں کو جلاتے ہیں۔ لیکن یہاں بدقسمتی سے ہم سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اپنی مذہبی رسومات پوری نہیں کر سکتے۔ ہم نے کئی بار افسران کو درخوست دی کہ شمشان گھاٹ کے لئے زمین موجود ہے، اس کی تعمیر کی جائے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔‘‘

جب اس سلسلے میں محکمہ اوقاف کے ایک اعلیٰ افسر سے بات کی گئی تو انہوں نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا، ’’جو بھی اقلیت کی نشست پر پارلیمنٹ پہنچ جاتا ہے، وہ اپنی برادری کو بھول جاتا ہے اور وہ اجتماعی کام چھوڑ دیتا ہے۔ دوسری اہم بات وسائل اتنے نہیں کہ دور دراز کے علاقوں میں رہائش پذیر اقلیتوں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔‘‘

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ہندوؤں کے قبرستان کے لئے الگ جگہ مختص کی گئی ہے لیکن نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پشاور میں ہندوؤں کے سماجی کارکن رام کا کہنا تھا، ’’ہندو مجبوراﹰ اپنے لوگوں کو دفناتے ہیں لیکن اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ ایک آگ پر ایک سکہ جلاکر مردے کے ہتھیلی پر رکھا جاتا ہے، جو اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ انہوں جلانے کا تقاضا پورا کردیا ہے۔‘‘

ارون سرب دیال کے مطابق اٹک میں دریائے کابل کے کنارے موجود شمشان گھاٹ میں تمام سہولیات موجود ہیں لیکن دوسرے شہروں سے وہاں مردے کو لانے پر پچاس سے ساٹھ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے، جو ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔‘‘

اشتہار