خیبر پختوانخوا میں 3 ہزار سے زائد ′این جو اوز‘ پر پابندی | حالات حاضرہ | DW | 09.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خیبر پختوانخوا میں 3 ہزار سے زائد 'این جو اوز‘ پر پابندی

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دہشت گردوں کی مبینہ مالی مدد میں ملوث بعض غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے تین ہزار سے زائد 'این جی اوز‘ پر پابندی عائد کی ہے۔

صوبائی محکمہ قانون، ادارہ برائے سماجی بہبود اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ریویو بورڈ نے غیر فعال اور مشکوک این جی اوز سے مالی معاملات، اہلکاروں کی تفصیلات، عطیات اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلات طلب کی تھیں تاہم ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان غیر سرکاری اداروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

 قبل ازیں ان غیر سرکاری تنظیموں کے ایگزیکٹیو بورڈ کو معطّل کرتے ہوئے انہیں کام کرنے سے روک  دیا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ سماجی بہبود کے پاس چار ہزار مقامی، قومی اور بین الاقوامی این جی اوز رجسٹرڈ تھیں، جن میں تین ہزار تیس کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض اداروں پر شک ہے کہ یہ بظاہر عوام کی فلاح و بہبود اور معاشرے کی فلاح کے لیے  کا م رہے ہیں لیکن اپنی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات کو خفیہ رکھ رہے ہیں۔ ان پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کے ذریعے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث بعض افراد سمیت دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کی جا رہی ہے۔

Welt-Aids-Tag in Pakistan (picture-alliance/dpa)

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو پہلے ہی ایسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس سلسلے میں جب ڈوئچے ویلے نے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ''فلاحی کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی سکرینگ شروع کی گئی ہے انہیں عطیات جمع کرانے اور اسے خرچ کرنے کے ذرائع بتانے پڑیں گے۔ اس طرح کی معلومات فراہم کرنے میں ناکامی پر ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوری سے قبل ہی ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ اگلے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر معاشی پابندیوں کے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

 شوکت علی یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ بعض تنظیموں کی مشکوک سرگرمیاں پاکستان کی بدنامی اور معاشی مشکلات کا سبب بن رہی ہی‍ں لیکن جو نیشنل اور انٹرنیشنل تنظیمیں صحیح معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کررہی ہیں حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

2017ء میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے میں ناکامی پر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جس پر پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے مزید چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ اس سلسلے میں جب ڈوئچے ویلے نے خیبر پختون‍خوا کے سماجی بہود کے ادارے کے اہلکار سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تین ہزار تیس غیر فعال این جی اوز کو معطل کیا گیا ہے جبکہ اس وقت 832 این جی اوز کام کرہی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذ‌کر ہے کہ خیبر پختونخوا میں بعض سیاسی اور دینی جماعتوں کے چند اکھٹا کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

DW.COM