خون ریزی کے دس سال، صحافیوں کو آج بھی جان کا خطرہ | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خون ریزی کے دس سال، صحافیوں کو آج بھی جان کا خطرہ

سوات میں کشیدہ حالات کے دوران چار صحافی ہلاک ہوئے تھے۔ دس سال بعد بھی نہ تو اِن کے قاتلوں کی نشاندہی ہوئی نہ ہی تحقیقات آگے بڑھائی جا سکیں ہیں، جس کے باعث سوات میں صحافی آج بھی خود کو غیر محفوظ ہی تصور کرتے ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اغواء کیا جاتا ہے اور مختلف طریقوں سے ان کی آواز دَبانے کی کوشش جاتی ہیں۔ تین مئی کو دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن تو منایا جا رہا ہے تاہم دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صحافیوں کے تحفظ کے لیے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔

کشیدہ حالات اور موسیٰ خان خیل کا قتل

سوات میں دہشت گردی کے نتیجے میں تین صحافی قتل ہوئے اور ایک خودکش دھماکے کی زد میں آ کر مارا گیا۔ ہلاک ہونے والے اِن صحافیوں میں موسیٰ خان خیل بھی شامل تھے۔ موسیٰ خان خیل سوات میں ایک نجی نیوز ٹی وی چینل اور اخبار کے ساتھ منسلک تھے۔

علاقائی سطح پر معروف صحافی موسیٰ خان خیل کو 18 فروری سن 2009 کو سوات کے علاقے مٹہ میں ’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘ کے سربراہ صوفی محمد کی ریلی کے دوران اغواء کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

مٹہ پولیس اسٹیشن میں اے ایس آئی وزیر حسین کے نام سے درج ایف آئی آر علت نمبر 17 کے مطابق مٹہ سے دو کلومیٹر دور علاقہ ڈیٹیانئی میں موسیٰ خان خیل کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے سیدو شریف اسپتال منقتل کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موسیٰ خان خیل کو 32 گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی مارے گئے۔

موسیٰ خان خیل کے قتل کی وجوہات

موسیٰ خان خیل کا قتل ظاہری طور پر ریاست اور انتہا پسند عناصر میں جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا گیا تاہم اس حوالے سے سوات کے صحافیوں کا ماننا ہے کہ اُن کی آواز دبانے، اُنہیں ڈرانے اور خوف پیدا کرنے کے لیے خان خیل کو قتل کیا گیا۔

صحافی نیاز احمد خان کہتے ہے کہ مؤثر صحافتی تربیت کا نہ ہونا، میڈیا اداروں کی جانب سے سکیورٹی کی عدم فراہمی اور صحافتی تنظیموں کا منظم نہ ہونا بھی موسیٰ خان خیل سمیت دیگر صحافیوں کی قتل کی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کشیدہ حالات کی رپورٹنگ کرنا نہیں جانتے تھے اور نہ ہی ہمیں کہیں سے تربیت ملی تھی۔ اکثر اوقات طالبان اور ریاستی اداروں کے خلاف یک طرفہ خبریں نشر کی جاتی تھی، جس سے دونوں جانب اُن کے نادیدہ دشمن پیدا ہو گئے تھے‘‘

موسیٰ خان خیل کے ساتھ ریلی میں شریک صحافی مراد علی باچا نے بتایا کہ ریلی سے الگ ہوتے ہی موسیٰ خان خیل پانچ سے سات کے قریب شدت پسندوں کے ہمراہ تیزی سے کہیں جا رہے تھے، ’’میں نے آواز دی تو انہوں نے مجھے کہا کہ تم جاؤ میں آتا ہوں ، شام کو خبر ملی کہ موسیٰ خان خیل کو قتل کر دیا گیا  ہے، جس سے صحافیوں میں موجود خوف کی کیفیت مزید پروان چڑھی‘‘۔

تحقیقات کہاں تک پہنچیں ؟

پاکستان میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم پی پی ایف کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں 26 صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں صرف پانچ کیسز کی تحقیقات مکمل ہوئیں اورملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

امریکی صحافی ڈینئل پرل، ولی خان بابر، ایوب خان خٹک، عبدالرزاق جورہ اور نثار احمد سولانکی کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار ہوئے اور انہیں سزائیں دی گئیں ۔ سوات میں دہشت گردی کے خاتمے اور حکومتی عمل داری بحال ہونے کے بعد ہی موسیٰ خان خیل کے قتل کی تحقیقات کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے ملزمان کی نشاندہی اور اُن تک رسائی ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔

موسیٰ خان خیل کے قتل کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق انہیں ریلی سے الگ کیا گیا اور وہاں سے دور لے جا کر قتل کیا گیا، قتل کے بعد ملزمان فرار ہوئے جو تا حال مفرور ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق نقاب اوڑھے شدت پسندوں نے بغیر نمبر پلیٹ والی پک اپ میں موسیٰ خان خیل کو بٹھایا اور وہاں سے لے گئے۔ یہ کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی اور دس سال کے عرصے میں کیس سرد خانے کی نظر ہوگیا۔

اس کیس کے ایک تفتیشی افسر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ موسیٰ خانخیل کو حالت جنگ میں قتل کیا گیا، حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر تھی، ’’ کیس کی تحقیقات کافی عرصے بعد شروع ہوئیں، جس کے باعث ملزمان کی نشاندہی کرنا اور اُن تک رسائی حاصل کرنا ناممکن ہے،‘‘

پبلک پراسیکیوٹر سید نعیم خان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خان خیل کے قاتلوں کی نشاندہی تک تحقیقات جاری رہیں گی، ’’ جن کیسز میں ملزمان نامعلوم ہو، اُن کی تحقیقات پچاس سال تک ہوتی رہتی ہے، ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری میں سب سے اہم کردار خاندان کے افراد کا ہوتا ہے جبکہ موسیٰ کے کیس میں ان کے خاندان کو کسی قسم کی معلومات نہیں ہیں‘‘۔

نعیم خان نے مزید کہا کہ کشیدہ حالات میں ادارے غیر فعال اور حکومتی رٹ ختم ہو چکی تھی، اسی لیے اب ملزمان کی نشاندہی مشکل دکھائی دیتی ہیں۔

’ریاست‘ ہی میرے بھائی کی قاتل ہے

نجی نیوز ٹی وی چینل کے ساتھ منسلک موسیٰ خان خیل کے چھوٹے بھائی عیسیٰ خان خیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی علم نہیں کہ ایف آئی آر کس نے درج کرائی تحقیقات کہاں تک پہنچی، کس طریقے سے کرائی گئیں اور نا ہی ان سب کے بارے میں انہوں نے کبھی جاننے کی کوشش کی، ’’جس طرح کے حالات تھے اور جو کچھ ہو رہا تھا ہمیں یقین تھا کہ نہ تو قاتلوں کی گرفتاری ہونا ہے اور نہ ہی اُن کی نشاندہی، دیگر ہزاروں افراد کی طرح میرے بھائی کے قاتل نامعلوم ہی رہیں گے‘‘۔

عیسیٰ نے مزید کہا، ’’میرے بھائی کا قتل ریاست کے ذمے ہے اور میں ریاست کو ہی قاتل سمجھتا ہوں، جب قاتل نامعلوم ہوں تو ریاست ہی ذمہ دار ہوتی ہے‘‘۔

میڈیا تنظیموں اور حکومت کا کردار

سوات سمیت ملک بھر کے صحافیوں نے موسیٰ کے قتل کے خلاف آواز بلند کی اور ہر فورم پر قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تاہم وہ آواز بھی آہستہ آہستہ دبنے لگی ۔ سوات پریس کلب کے چیئرمین شہزاد عالم نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم آج بھی موسیٰ خان خیل سمیت دیگر صحافیوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور اُن کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات کو مؤثر بنا کر قاتلوں کا سراغ لگا کر ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے تاکہ امن کے لیے جو قربانیاں صحافیوں نے دی ہیں وہ رائیگاں نہ جائیں‘‘۔

عیسیٰ خان خیل کہتے ہیں، ’’میڈیا تنظیموں اور اداروں نے ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے، اسی طرح اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ہمارے غم میں برابر کی شریک ہوئی تاہم سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں پلاٹ دینے کا اعلان کیا تھا، جو آج تک ہمیں نہیں ملا۔‘‘

صحافیوں کے لیے پاکستان خطرناک کیوں ؟

سوات سمیت ملک بھر میں صحافیوں پر حملوں کی شرح کافی زیادہ ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2002ء سے لے کر 2009ء تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں 48 صحافیوں کا قتل ہوا، 24 صحافیوں کو دوران ڈیوٹی قتل کیا گیا۔ اسی طرح 2018ء تک 72 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، دیگر واقعات میں اغوا، تشدد، صحافیوں کو دھمکانے اور اُن پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ وادی سوات میں سن 1999 سے لے کر سن 2009 تک ایسے 12 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں چار صحافیوں کا قتل بھی شامل ہیں۔

سوات کے صحافیوں کو درپیش موجودہ خطرات

امن کی بحالی میں قربانیاں دینے والے صحافیوں کو آج بھی اُنہی خطرات کا سامنا ہے جو دس سال قبل پائے جاتے تھے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے نمائندے فیاض ظفر کا کہنا ہے کہ آج بھی افغانستان سے شدت پسند اور نامعلوم افراد فون کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔

صحافی نیاز احمد خان نے بھی اِن خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے تو آئے روز قتل کرنے کے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں موجود بعض ادارے بھی دباؤ ڈالنے کے لیے دھمکاتے رہتے ہیں۔

نجی نیوز چینل اور اخبار سے منسلک صحافی انور انجم اپنی خبروں میں اکثر اوقات سکیورٹی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں کئی بار حبس بے جا میں رکھا گیا، کئی بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، ’’سیکورٹی اداروں کی ناکامی پر ایک خبر چلائی جس کے بعد ایک  ادارے کے دو اہلکار آفس پہنچ گئے اور کھلم کھلا جان سے مارنے کی دھمکی دے کر چلے گئے ، پولیس اسٹیشن میں اُن کے خلاف رپورٹ درج کرنا چاہی تو پولیس نے صاف انکار کر دیا اور بعد میں صرف روزنامچہ رپورٹ ہی درج کی‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا نہ ہی پولیس نے رابطہ کیا اور نا ہی کیس میں کوئی پیش رفت ہوئی۔

سوات کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا تحفظ میڈیا اداروں اور متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، جب تک آزادی صحافت کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے تب تک یہ خطرات موجود رہیں گے۔

DW.COM