خود کُشیوں کا رجحان کم ہوتا ہوا | معاشرہ | DW | 19.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

خود کُشیوں کا رجحان کم ہوتا ہوا

جاپان میں خود کُشی کئی صدیوں سے معاشرتی وقار کے ساتھ نتھی کی جاتی رہی ہے۔ اب اس معاشرتی وقار کے حامل رویے میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی نے بتایا ہے کہ جاپان میں خودکشی کے رجحان میں تسلسل کے ساتھ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں سے خودکشی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے تاہم خودکشی کرنے والوں کی مجموعی تعداد بیان نہیں کی ہے۔

جاپان: سماجی ویب سائٹس اور خود کشی کا رجحان

نو افراد کا بھیانک قتل اور جاپانی معاشرہ

کیا خودکُشی کے واقعات کی میڈیا کوریج ہونی چاہیے؟

بھارت، کپڑوں پر داغ لگنے پر تذلیل، لڑکی نے خود کشی کر لی

پولیس کے حکام نے اس تناظر میں وضاحت دیتے ہوئے بیان کیا کہ سن 2017 میں انیس سال یا اس سے کم عمر کے افراد میں خودکشی کا رجحان بڑھا ہے تاہم مجموعی طور پر اپنی جان لینے والوں کی تعداد سن 2016 کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ اس طرح گزشتہ برس ہونے والی خودکشیوں کی شرح میں کمی کا تناسب 3.5 رہا ہے۔

سن 2016 میں 21,140 افراد نے اپنی جان خود لی تھی۔ جاپانی پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس خود کشی کرنے والوں میں 70 فیصد مرد تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جاپانی معاشرے میں اوسطاﹰ اٹھاون افراد روزانہ کی بنیاد پر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں اور اُن میں بعض کو بچا لیا جاتا ہے۔

جاپان میں گزشتہ آٹھ برسوں کے درمیان خودکشی کے رجحان میں کمی کی وجہ معاشرے میں خودکشی کے خلاف مہم کو قرار دیا گیا ہے۔ اس مہم میں نفسیاتی معالجین کے علاوہ سرگرم کارکنان، شہریوں کے مخصوصی گروپس اور مقامی حکومتوں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

Japan - Aokigahara Wald (picture alliance/Kyodo)

خودکشی کرنے والے افراد جوکائی کے جنگلات کا سفر کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ اس جنگل کے دروازے پر خودکشی نہ کرنے کی تلقین درج ہے

مشرق بعید کے اس ملک میں سن 1998 سے لے کر سن 2011 کے درمیان تیس ہزار سے زائد افراد نے سالانہ بنیاد پرخودکشی کا ارتکاب کیا تھا۔ اس عرصے میں سب سے زیادہ خوکشیاں سن 2003 میں ہوئی تھیں جب 34 ہزار 247 افراد نے خود ہی اپنی جان لی تھی۔

اس حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ معاشرتی مسائل سے زیادہ لوگوں کا خودکشی کرنا اقتصادی مشکلات کے باعث ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جاپان میں اقتصادی پیچیدگیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور مستقبل میں خودکشیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہیں۔

جاپان میں خودکشی کو ’ہارکیری‘ یا سیپُوکُو (Seppuku) کا نام دیا جاتا ہے۔ جاپان کے قدیمی سامورائے عسکری رویے کے مطابق کسی بھی ناکامی کی صورت میں خودکشی سے مرنا وقار کی ایک علامت ہوتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:55

مشتبہ دہشت گرد کی جرمن جیل میں خودکشی کا معاملہ اور اثرات

DW.COM

Audios and videos on the topic