خود کشیوں کی روک تھام، جاپان میں ’وزیر تنہائی‘ کی تقرری | معاشرہ | DW | 25.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

خود کشیوں کی روک تھام، جاپان میں ’وزیر تنہائی‘ کی تقرری

برطانیہ کی طرح جاپان میں بھی عام شہریوں میں سماجی تنہائی کے سدباب کے لیے ایک خصوصی وزیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس وزیر کی بنیادی ذمہ داری خود کشیوں کی روک تھام ہے۔

‍زجاپانی وزیر اعظم یوشی ہیڈے سُوگا کی کابینہ نے انیس فروری کو ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ملک میں بعض معاشرتی مسائل کے تناظر میں ایک نئے وزیر کی تقرری ضروری ہو گئی ہے اور یہ وزیر پوری طرح شہریوں میں احساس تنہائی کو کم کرنے پر توجہ دے گا۔

جاپان: نوجوان خواتین میں خودکُشی کی شرح میں نمایاں اضافہ

اس وزیر کی ضرورت اور اس کی ذمہ داریوں میں کورونا کی وبا کے باعث شہریوں میں اکیلے پن کے احساس سے پیدا ہونے والے ڈیپریشن کے نتیجے میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا زیادہ اہم بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسی وزیر کو بچوں میں بڑھتی ہوئی غربت کا سدباب بھی کرنا ہو گا۔

وزیر تنہائی

جاپان میں گزشتہ گیارہ برسوں میں خود کشی کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ماہرینِ سماجیات نے کورونا کی وبا سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتِ حال بھی بتائی ہے۔

 Japan Aokigahara Wald

جاپان کا انتہائی گھنا بارانی گرین جنگل، اس میں سالانہ بنیاد ہر ستائیس ہزار افراد خودکشی کے لیے پہنچتے ہیں

خود کشی کے رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے وزیر اعظم یوشی ہیڈے سُوگا نے اپنی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ ٹیٹسوشی ساکاموٹو کو ملک کا اولین 'وزیرِ تنہائی‘ مقرر کیا ہے۔

ٹیٹسوشی ساکاموٹو پہلے ہی ملک میں زوال پذیر شرح پیدائش کو بہتر بنانے کی وزارت کے نگران سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ذمہ داریوں میں علاقائی معیشت کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔

جاپان میں کورونا کا اقتصادی اثر: خودکشیوں میں اضافہ

سماجی تنہائی کی صورت حال

کورونا وائرس سے پھیلنے والی مہلک وبا اور لاک ڈاؤن نے جاپانی معاشرت پر خاصے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان اثرات کی وجہ سے جاپانی قوم میں پہلے سے موجود خود کشی کے رویے کو مزید تقویت ملی ہے۔ عام لوگوں میں احساسِ تنہائی زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

اپنی تقرری کے بعد ٹیٹسوشی ساکاموٹو نے کہا کہ سُوگا حکومت نے جاپانی معاشرے میں احساسِ تنہائی کے بڑھنے کو قومی اہمیت کا حامل ایک مسئلہ سمجھا ہے۔ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران جاپانی خواتین میں خود کشی کے رجحان کو بہت زیادہ اور انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔

Japan Frau Alter

جاپان میں بوڑھے افراد کی تعداد غیر معمولی ہے اور انہین شدید اکیلے پن کا سامنا ہے

بڑی ذمے داری اور جامع حکمت عملی کی تشکیل

ٹیٹسوشی ساکاموٹو نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم سُوگا نے انہیں واضح ہدایت کی ہے کہ وہ ہر عمر کے شہریوں میں احساسِ تنہائی کو کم سے کم کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل لیکن جامع حکمتِ عملی مرتب کریں۔

ساکاموٹو نے کہا کہ فوری طور پر اس حوالے سے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور سماجی اکیلے پن اور تنہائی کے رویوں کی نشاندہی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ ساکاموٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد ہی ایسے افراد کے تحفظ کی خاطر انہیں 'سماجی لڑی میں پرونے‘ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

جنوبی کوریا میں خودکشیاں کیوں بڑھ  رہی ہیں؟

جاپان میں کورونا اور خود کشیاں

سن 2020 میں اکتوبر کے مہینے تک جاپان میں آٹھ سو اسی خواتین خود کشی کر چکی تھیں۔ یہ تعداد سن 2019 کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ تھی۔ اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ کورونا لاک ڈاؤن میں نوکریوں کا نا ہونا بھی بتائی گئی تھی۔

جاپان میں کورونا وائرس کی وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار پانچ سو چوراسی ہے۔ اس وبا کی لپیٹ میں آنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ تیس ہزار کے قریب ہے۔

Street Food Asien

کورونا وبا سے روزگار کی صورت حال خراب ہو چکی ہے اور جاپانی لوگوں میں غربت بڑھی ہے

بزرگ افراد، یورپی یونین اور برطانیہ

دوسری جانب ایک ریسرچ کے مطابق یورپی یونیں کی رکن ریاستوں میں کورونا کی وبا کے دنوں میں بزرگ افراد کے علاوہ تیس ملین سے زائد نوجوانوں کو بھی تنہائی کا شکار ہونا پڑا۔ پچھتر ملین لوگوں کو ایک ماہ میں ایک دفعہ دوستوں یا خاندان کے افراد سے ملاقات کا موقع میسر آتا تھا، اور اب وہ بھی تقریباﹰ ختم ہو چکا ہے۔

تنہائی کی شدید صورت حال پر قابو پانے کے لیے برطانوی حکومت نے بھی کورونا کی وبا سی قریب دو سال قبل سن 2018 میں ایک خصوصی وزارت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کو مثال بناتے ہوئے جرمن سیاستدانوں نے بھی اپنے ملک میں ایسا کیے جانے کی حمایت کی ہے۔

ع ح / م م (نیوز ایجنسیاں)