خودکشی کرنے والے لاکھوں بھارتی کسانوں کی پریشان حال بیوائیں | معاشرہ | DW | 08.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

خودکشی کرنے والے لاکھوں بھارتی کسانوں کی پریشان حال بیوائیں

بھارت کے مختلف علاقوں میں زرعی بحران کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس بحران کا مرکزہ اجناس کی مسلسل گرتی ہوئی قیمتیں اور پھر بدحالی سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کرنے والے ہزارہا کسان بتائے جاتے ہیں۔

بھارت میں جرائم کے نیشنل ریکارڈ بیورو کے سن 2015 تک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سن 1995 اور سن 2010 کے درمیانی پندرہ برسوں میں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار کسانوں نے خودکشی کر لی تھی۔ ایک معتبر بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر میں روزانہ کی بنیاد پر سات کسان خودکشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

بھارت کے زرعی بحران کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت مختلف علاقوں کے کسانوں کا ملکی دارالحکومت نئی دہلی کی جانب نومبر سن 2018 کے آخری ایام میں احتجاجی مارچ بھی تھا۔ اس احتجاج کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے ایک لاکھ سے زائد غریب کسان نئی دہلی پہنچے اور حکومتی ایوانوں تک اپنی صدائے احتجاج پہنچانے کی کوشش کرتے رہے۔ مظاہرین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سے اپنی مشکلات کے ازالے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

Indien - Weibliche Landwirte: Vijayshree Bhagat's Mann nahm sich 2012 das Leben (DW/K. Purohit)

وجےشری بھگت انتیس برس کی ایک خاتون کسان ہے اور اُس کا تعلق مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر سے ہے

وجےشری بھگت انتیس برس کی ایک خاتون کسان ہے اور اُس کا تعلق مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر سے ہے۔ وہ ایک بیوہ ہے کیونکہ اُس کے شوہر پرشانت نے بھی زرعی مفلوک الحالی کی وجہ سے خودکشی کر لی تھی۔ اس ریاست  کے  کسانوں کو بھی اپنی زیر کاشت زمین سے کافی فصل نصیب نہیں ہو رہی اور ان پر بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضوں کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ غربت کے بوجھ تلے انہیں مرنا آسان اور جینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مجموعی طور پر اس علاقے کے کسانوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے اور اسی باعث ان کے لیے زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

وجے شری کے شوہر پرشانت کو بھی مسلسل اپنی کاشت کاری سے پے در پے نقصان کا سامنا تھا۔ وجے شری کا کہنا ہے کہ اُس وقت اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ اُس کے ارد گرد کیسے حالات جنم لے چکے ہیں اور وہ گھریلو تکرار کو ہی اپنے خاندان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ رہی تھی۔ وہ اُس وقت سات ماہ کی حاملہ تھی اور اپنے والدین کے گھر گئی ہوئی تھی جب اُس کے شوہر پرشانت نے خودکشی کر لی تھی۔ اُس کے بھائی نے بھی کاشت کاری میں شدید نقصان کے بعد اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی تھی۔ ان خودکشیوں کے بعد سبھی نے اُس کے ساتھ رشتے ناطے ختم کر دیے اور وہ لاوارث ہو کر رہ گئی تھی۔

Indien Proteste von Bauern in Dehli (Getty Images/AFP/S. Hussain)

بھارتی کسانوں نے نئی دہلی کی جانب نومبر سن 2018 کے آخری ایام میں احتجاجی مارچ بھی کیا تھا

ایسے حالات کا سامنا صرف وجے شری کو ہی نہیں، بلکہ خودکشی کرنے والے کسانوں کی لاکھوں بیواؤں کو بھی کم و بیش انہی حالات کا سامنا ہے۔ دو ماہ قبل اُس نے 80 دیگر بیواؤں کو لے کر مہاراشٹر کے ریاستی دارالحکومت ممبئی میں اختجاج بھی کیا تھا۔ وہ مثبت سماجی سکیورٹی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اُن کے اس مظاہرے کو ایک سرگرم تنظیم مہیلا کسان ادھیکار منچ (MAKAAM) یا ’مکام‘ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس تنظیم کے مطابق یہ مظاہرہ حقیقت میں اُن کی ذات کی سلامتی کے حق میں بھی ہے۔ سرگرم کارکنوں کے مطابق ایسے مظاہروں سے یقینی طور پر حالات میں تبدیلی پیدا ہو گی۔

وجے شری بھگت جیسی کئی خواتین ہیں، جن کے شوہر خودکشیاں کر چکے ہیں اور اب انہیں شدید معاشی مشکلات اور معاشرتی بدحالی کا سامنا ہے۔ زرعی بحران کے حوالے سے آواز اٹھانے والے سرگرم کارکنوں کی ایک تنظیم سے تعلق رکھنے والی سوراجیہ مترا کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں اسّی فیصد کام خواتین کرتی ہیں اور اس کے باوجود ریاست اُن کی مشقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ان بیوہ خواتین کی حالت زار کا صحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ یہ تنظیم مہاراشٹر کے علاقے امراوتی میں فعال ہے اور اسی علاقے میں کسان سب سے زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں۔

DW.COM