1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خواتین کے نفسیاتی عوارض

10 جولائی 2024

میاں بیوی کو اگر خاندان کی گاڑی کے دو پہیے کہتے ہیں تو بحیثیت مجموعی مرد اور خواتین سماج کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اس لیے کسی بھی معاملے اور مسئلے میں خواتین کو نظر انداز کرنا یا ان کے مسائل کو اہمیت نہ دینا غلط ہوتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4i7TC
تصویر: Privat

اگر دو میں سے ایک پہیا بھی متاثر ہو تو سماج کی گاڑی آگے نہیں بڑھ پاتی۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں حقوق نسواں کی صورت حال تسلی بخش نہیں۔ خواتین کے مسائل اور امراض پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، بلکہ بہت سی جگہوں پر تو یہ ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا کہ ان کو بھی مریض سمجھ کر ان کا علاج معالجہ کیا جائے، الا یہ کہ وہ امراض ذہنی اور نفسیاتی ہوں۔

یوں تو مردوں کے نفسیاتی عوارض کے حوالے سے بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لیکن خواتین کی ذہنی صحت پر تو بات کرنے کا تصور بھی موجود نہیں۔ اس کی وجہ وہ توہمات اور واہمے ہیں کہ ان پر جنات اور بھوت پریت کے اثرات ہیں وغیرہ۔ ایسے میں یا تو ان کی ساری زندگی اسی اذیت میں گزرتی ہے یا پھر انتہائی صورت میں موت سے بھی زیادہ وبال بن جاتی ہے، کیوں کہ انہیں 'اچھوت‘ قرار دے کر خود سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ ان سے مار پیٹ بھی کی جاتی ہے اور کسی بھی صورت میں قابل علاج یا اصل بیماری کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔

خواتین کی ذہنی صحت کو سمجھنے کے لیے ہم اسے دو حصوں میں باںٹ سکتے ہیں؛ ایک غیر شادی شدہ اور دوم شادی شدہ۔

پاکستانی سماج میں یہ دو زمرے نہیں کسی بھی عورت کے لیے گویا دو زندگیاں ہیں، اگر وہ غیر شادی شدہ زندگی سے اچھی طرح جھوجھ گئیں تو اس کے بعد ایک نیا امتحان شادی شدہ زندگی کا ہوتا ہے۔ ذہنی امراض کی شدت اور وجوہات بھی اسی طرح انہی دو زمروں میں بانٹی جا سکتی ہیں۔

غیر شادی شدہ زندگی میں اسے بڑھتی عمر کے حوالے سے سماج اور گھر میں مختلف طرح کے دباﺅ، طعنوں اور پا بندیوں کا سامنا ہوتا ہے اور کہیں تو اسے بچپن ہی میں کسی نا خوش گوار حادثے یا خدانخواستہ جنسی تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے گویا اذیت کی ایک داستان اس کے نام لکھ دی جاتی ہے۔ پہلے اسے برابر نہیں سمجھا جاتا اور پھر کوئی ایسی صورت حال در پیش ہو تو اس سے سلوک کسی انسان کی طرح نہیں ہوتا، اس کے جذبات اور خوف و صدمے کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں زندگی کا کوئی ایک معمول کا حادثہ جو چند دن بعد بھلا دیا جا سکتا تھا، وہ ذہن کے پردے پر چپک کر رہ جاتا ہے اور اپنے پنجے گاڑتا گاڑتا ناسور بن جاتا ہے اور اسے خاندان اور ارد گرد کے لوگ غیر انسانی رویے رکھ کر اور بھڑکاتے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر اگر کسی طرح اس کی شادی ہو جائے تو پھر نفسیاتی اذیتیں کئی گنا بڑھ کر اسے زندہ درگور کر دیتی ہیں۔ جب اسے گھر والوں نے سمجھنے کے لائق نہیں سمجھا ہوتا تو پرائے گھر میں اس کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے!

سو یہیں سے ازدواجی تلخیاں بھی بڑھتی ہیں اور اس پر جسمانی تشدد کا باعث بھی بننے لگتی ہیں۔ زندگی میں اولاد ہو جائے تو پھر یہ بھی ایک الگ نزاع کا باعث ہوتا ہے۔ اور اولاد جوں جوں بڑی ہوتی ہے، تو ماں کی غیر معمولی حالت اور گھر کا تلخ ماحول اسے کسی بھی صحت مند ذہن سے بہت دور لے جاتا ہے۔

خوش قسمتی سے اگر لڑکی کی غیر شادی شدہ زندگی کسی بھی ذہنی اذیت یا چوٹ کا باعث نہ بنی ہو تو ابھی امتحان ختم نہیں ہوئے ہوتے، ازدواجی زندگی یک سر ایک نئی دنیا ہوتی ہے۔ یہاں شوہر سے لے کر سسرال والوں کی توقعات اور طعنے تشنے بہت سی خواتین کو نفسیاتی عوارض کی دہلیز پر لا پھینکتے ہیں۔ اس میں اگر بے اولادی کا مسئلہ در پیش ہو تو پھر ذہنی امراض کے یہ خدشات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ نئے گھر میں بھی یہ نا ممکنات ہی میں رہتا ہے کہ اس کے نفسیاتی عوارض کو سمجھا جائے گا یا اسے با قاعدہ بیماری سمجھ کر کسی سے کاﺅنسلنگ کی کوشش کی جائے گی۔

پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی خواتین کے نفسیاتی عوارض کو اہمیت نہیں دی جاتی اور صورت حال سنگین ہونے پر صرف جھاڑ پھونک پر اکتفا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ ہر ہسپتال اور کلینک میں نفسیاتی عوارض کے حوالے سے آگاہی دی جائے اور عام ڈاکٹر نفسیاتی امراض کے حوالے سے بالخصوص خواتین پر نگاہ رکھیں اور  کسی نفسیاتی علاج کی طرف راغب کریں، کیوں کہ لوگ جسمانی امراض کے ڈاکٹر کو تو اہمیت دیتے ہیں، لیکن نفسیاتی و ذہنی امراض کے حوالے سے اب بھی "پاگلوں کا ڈاکٹر" جیسی غیر تعلیم یافتہ سوچ بہت گہری ہے۔ اسے ختم کرنے اور اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے کہ جیسے جسم بیمار ہو سکتا ہے، ایسے ذہن بھی کبھی علاج کی ضرورت محسوس کر سکتا ہے، اس میں قطعی کوئی شرم یا جھجھک کی بات نہیں ہے۔

 نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔‍