خواتین کے لیے خطرناک ممالک: بھارت پہلے، پاکستان چھٹے نمبر پر | معاشرہ | DW | 26.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

خواتین کے لیے خطرناک ممالک: بھارت پہلے، پاکستان چھٹے نمبر پر

ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق بھارت، خواتین کی اسمگلنگ اور اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیے جانے والے ممالک میں سرفہرست ہے، جہاں جسم فروشی، ملازمت اور جبری شادی کے لیے خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے اس سروے میں دنیا بھر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ساڑھے پانچ سو ماہرین نے حصہ لیا۔ سروے کا مقصد خواتین کے حقوق کی صورت حال اور اُن کی اسمگلنگ کے حوالے سے ایسے ممالک کا پتہ لگانا تھا جہاں انسانی اسمگلرز کے ہاتھوں اُن کا استحصال کیا جاتا ہے۔

ادارے نے گزشتہ رپورٹ سن 2011 میں بھی جاری کی تھی۔ اس برس کی درجہ بندی کے مطابق خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے افغانستان پہلے نمبر پر تھا جب کہ جمہوریہ کانگو، پاکستان، بھارت اور صومالیہ بالترتیب دوسرے سے پانچویں نمبر پر رہے تھے۔

اس تازہ جائزے میں بھی ماہرین سے پوچھا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایک سو ترانوے رکن ممالک میں سے کون سے اراکان خواتین کی صحت،  بہبود، اقتصادی وسائل، رسم و رواج،جنسی و غیر جنسی تشدد اور اسمگلنگ کے حوالے سے بدترین ہیں۔

رواں برس 26 مارچ سے چار مئی کے درمیان کیے گئے اس سروے کے مطابق ایسے ممالک کی فہرست درج ذیل ہے جہاں خواتین کی سماجی و اقتصادی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔

Afghanistan - Häuslicher Missbrauch - Scheidung (Getty Images/AFP/N. Shirzada)

رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کی اقتصادی اور طبی وسائل تک رسائی ممکن نہیں ہے

بھارت

اس عالمی سروے کے مطابق عورتوں کے حقوق کی خراب صورت حال کے حوالے سے بھارت اوّل نمبر پر ہے جہاں سن 2012 میں 23 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ اور ہلاکت کے واقعے کے بعد خواتین پر ہونے والے حملوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے بلکہ دن بدن اضافہ ہی ہوا ہے۔

بھات کو تین وجوہات کی بنا پر خواتین کے حوالے سے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ایک تو جنسی ہراسگی اور جنسی تشدد کے خطرات جن کا سامنا بھارتی خواتین کو آئے روز کرنا پڑتا ہے، دوئم سماجی اور روایتی رسوم و رواج کے سبب اور تیسری وجہ خواتین، لڑکیوں اور بچیوں کی اسمگلنگ ہے جس کے تحت انہیں جبری شادی، جنسی غلامی اور گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

افغانستان

افغانستان اس درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے سترہ سال بعد بھی خواتین کی سماجی و معاشی زندگی مایوس کن ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کو نہ صرف جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا ہے بلکہ اقتصادی اور طبی وسائل تک بھی اُن کی رسائی ممکن نہیں ہے۔

شام

سات سال سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کو خواتین کی مجموعی صورت حال کے حوالے سے تیسرا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عورتوں پر غیر جنسی تشدد اور طبی سہولتوں کے فقدان کے لحاظ سے اس عالمی درجہ بندی میں شام دوسرے نمبر پر خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا۔

Symbolbild Genitalverstümmelung bei Frauen in Afrika (Getty Images/AFP/N. Sobecki)

سروے کے مطابق صومالیہ کی خواتین کو ضرر رساں سماجی رسم و رواج کی بھینٹ بھی چڑھایا جاتا ہے

صومالیہ

سن انیس سو ستانوے سے شورش کا شکار ملک صومالیہ حقوق نسواں کی پامالی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے۔ تھومسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے اس سروے کے مطابق صومالیہ کی خواتین کو بھی طبی وسائل تک رسائی میسر نہیں اور انہیں ضرر رساں سماجی رسم و رواج کی بھینٹ بھی چڑھایا جاتا ہے۔ ان دو پہلوؤں کے اعتبار سے صومالیہ کو خواتین کے لیے تیسرا خطرناک ترین ملک بھی کہا گیا ہے۔

سعودی عرب

سعودی عرب یوں تو اس درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر ہے تاہم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور اُن کی معاشی وسائل تک پہنچ نہ ہونے کے زُمرے میں اس کی درجہ بندی دوسرے نمبر پر کی گئی ہے۔

پاکستان

عورتوں کے ساتھ ناانصافی، غیرت کے نام پر قتل، اقتصادیات میں اُن کی عدم شمولیت اور مذہب و سماج کے نام پر کیے جانے والے امتیازی سلوک کی بنا پر پاکستان کو تھومسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے جائزے کے مطابق چھٹے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

خواتین کے ساتھ ناروا سلوک، تعلیم، معاش اور طبی سہولتوں کے فقدان اور سماجی تفاوت کے حوالے سے کیے جانے والے اس سروے کی رپورٹ میں پہلے دس خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں جن دیگر چار ممالک کو شامل کیا گیا ہے ان میں بالترتیب جمہوریہ گانگو، یمن، نائیجیریا اور امریکا شامل ہیں۔  

ص ح/ ش ح / روئٹرز

DW.COM