خواتین کے قتل کو کب تک خودکشی قرار دیا جاتا رہے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خواتین کے قتل کو کب تک خودکشی قرار دیا جاتا رہے گا؟

ترکی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی قیادت اور عدلیہ اپنا رویہ درست نہیں کریں گے، خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

 ترکی میں عورتوں کے بہیمانہ قتل کے واقعات تواتر سے سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں کئی خواتین کے قتل کو خودکشی قرار دے کر دبا دیا گیا۔

مئی سن 2018 میں شُولے چت نامی تیئیس سالہ لڑکی کا قتل ترک دارالحکومت انقرہ میں ہوا۔ اس بھیانک واقعے سے سارا ملک لرز اٹھا تھا۔

اونچی ایڑی والے 440 جوتے، ہر جوتا ایک ترک مقتولہ کا

اس نوجوان خاتون کو دفتر میں شراب کے نشے میں دھت دو افراد نے ریپ کیا اور پھر انہیں بلند عمارت سے نیچے پھینک دیا۔ اس واردات میں مقتول کا باس بھی ملوث تھا۔

Proteste von Frauenorganisationen in Ankara

مئی سن 2018 میں شُولے چت نامی تیئیس سالہ لڑکی کا قتل ترک دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جس سے سارا ملک لرز اٹھا تھا

ملزمان نے پولیس کے سامنے دعویٰ کیا کہ لڑکی نے خودکشی کی تھی۔ لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوا کہ یہ بظاہر خودکشی کا واقعہ نہیں تھا۔ رپورٹ میں لڑکی کی گردن ٹوٹی ہوئی، خون میں نشہ آور مواد کی موجودگی اور جنسی زیادتی کے شواہد ملے۔

یہ مقدمہ چھ ماہ چلتا رہا۔ ہر سماعت پر مظاہرین عدالت کے باہر موجود ہوتے اور مقتول خاتون کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے۔ بلآخرعدالت نے اس کیس میں ایک ملزم کو عمر قید اور دوسرے کو انیس برس قید کی سزا سنائی۔

ناکافی تفتیش

ترکی میں اس ہائی پروفائل مقدمے کا بڑا تذکرہ ہوا۔ ملزمان کو سزا ملنے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کو امید تھی کہ شاید اب نظام میں بہتری آرہی ہے۔ لیکن خواتین کے قتل کی وارداتوں میں کمی نہ آئی اور کئی ایسے واقعات ہوتے رہے جن میں مشتبہ قتل کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔

Proteste von Frauenorganisationen in Ankara

سولے چت کو قتل کرنے کے مقدمے کے دوران خواتین انصاف کا مطالبہ کرتی رہی تھیں

حال ہی میں جنوب مشرقی ترک شہر دیاربکر میں آیتن کایا کے قتل کو بھی میڈیا کوریج ملی۔ کایا کی لاش اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس خاتون کی ہلاکت کو استغاثہ نے خودکشی قرار دے کر جلد ہی تفتیشی عمل بند کر دیا۔

ان کے گھر والے پولیس کے موقف سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قتل تھا اور تفتیشی عمل درست انداز میں مکمل نہیں کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم میں بھی رسی سے لٹک کر مرنے کے شواہد نہیں ملے اور مقتول کے بدن پر چوٹوں اور تشدد کے نشانات بھی تھے۔ لیکن ان تمام شواہد کے باوجود استغاثہ نے اس معاملے کی جامع تفتیش کرنے سے انکار کر دیا۔

ترک خواتین فوجی افسران کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی ختم

تین سو خودکشیاں

ترکی میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم "روزا" کے مطابق حال ہی میں ایسی قسم کے پرسرار حالات میں مزید چار عورتوں کی خودکشیاں سامنے آئی ہیں لیکن حکام ان کی تفتیش کرنے سے انکاری رہے ہیں۔

Türkei Istanbul | Feministische Performance geht um die Welt Der Vergewaltiger bist du

خواتین کی ایک تنظیم سے منسلک کارکن نے مشتبہ ہلاکتوں کی ذمہ داری انصاف کے نظام پر عائد کی ہے

ترکی میں ایسی ہلاکتوں کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیموں کے مطابق سن 2020 میں ترکی میں خواتین کی تین سو خودکشیاں ہوئی ہیں جبکہ کوئی ایک سو اکہتر خواتین کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی۔

معروف ترک خاتون ناول نگار کے بیرون ملک سفر پر پابندی برقرار

خواتین کے حقوق کی ایک اور تنظیم سے منسلک کارکن کا کہنا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام اس قابل نہیں کہ ایسی خودکشیوں کے حوالے سے بھرپور اقدام اٹھا سکے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کا تواتر سے ہونا ملک میں  مردوں کے بنائے ہوئے نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔

بورجاس کاراکاس (ع ح، ش ج)