خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحریک ’ٹائمز اپ ناؤ‘ | معاشرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحریک ’ٹائمز اپ ناؤ‘

امریکا میں ٹی وی، فلم اور تھیٹر سے تعلق رکھنے والی تقریبا تین سو خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے۔

اس مہم کو ’ ٹائمز اپ ناو‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت امریکا میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ملازمت کی جگہ پر استحصال کے خلاف بھی عملی طور پر مدد دی جائے گی۔ اس گروپ نے قانونی چارہ جوئی میں مدد دینے کے لیے 13 ملین ڈالر کے فنڈز بھی اکھٹے کر لیے ہیں۔ اس سے ان خواتین کی مالی معاونت جائے گی جن کے پاس جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔

US Wahlen Eva Longoria (Reuters)

اس مہم کو ہالی ووڈ کی کئی معروف اداکارواں کا تعاون حاصل ہے

اینٹرٹینر آف دی ایئر، جنسی استحصال کے الزامات اور خواتین

اس مہم کے منتظمین کی جانب سے شائع کیے جانے والے ایک کھلے خط میں کہا گیا ہے، ’’ ہراساں کرنے کے واقعات اس لیے اکثر ہوتے رہتے ہیں کیونکہ  اس کا ارتکاب کرنے والے اور ملازمت دینے والے مالکان کو کسی بھی طرح کے نتائج بھگتنے نہیں پڑتے۔‘‘

اس مہم میں کارپوریٹ یا اعلیٰ سطح کی ملازمت کے مساوی مواقعوں اور مساوی تنخواہ کی وکالت بھی کی جارہی ہے جبکہ ملازمت کی جگہ ہراساں  کرنے کو برداشت کرنے والی یا اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے والی کمپنیوں کو لائق تعزیر قرار دینے کے لیے قانون سازی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کو ہالی ووڈ کی معروف اداکارواں مثلا ایوا لونگوریا، ریس ویدراسپُون اور امریکا فریرا کا تعاون حاصل ہے۔

اس کے علاوہ اس گروپ میں Alianza Nacional de Campesinas بھی حصہ دار ہے۔ یہ تنظیم لاطینی خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف عملی و عدالتی مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب شوبز سے تعلق رکھنے والے کئی ناموں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزمات کا سامنا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات