خواتین کا عالمی دن، برلن میں عام تعطیل | معاشرہ | DW | 08.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

خواتین کا عالمی دن، برلن میں عام تعطیل

آج آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا دن منایا جا رہا ہے جب کہ جرمن دارالحکومت دنیا کا وہ پہلا شہر بن گیا ہے، جہاں اس دن کی مناسبت سے عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں آج منائے جا رہے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مختلف ممالک میں خواتین کے حقوق اور معاشرے میں عدم تفریق کے لیے جدوجہد جیسے موضوعات پر بحث ہو رہی ہے جب کہ دنیا کے کئی شہروں میں خواتین اپنے حقوق کے لیے مارچ بھی کر رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی کراچی سمیت مختلف شہروں میں خواتین مارچ کا انعقاد ہو رہا ہے، جب کہ اسی حوالے سے دیگر تقاریب میں معاشرے میں خواتین کو درپیش مسائل کے خاتمے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا جائے گا۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن، مزید کوششوں کی ضرورت

’لڑکیاں موٹر سائیکل چلائیں گی اور آگے بڑھیں گی‘

خواتین کے عالمی دن کی کہانی

خواتین کے حقوق کے حوالے سے جرمنی میں جدوجہد ایک سو سال سے بھی زائد پرانی ہے۔ رواں برس جرمنی میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کی سو سالہ تقریبات بھی منائی گئی تھیں۔ سن 1910ء میں کوپن ہیگن میں کانفرنس آف سوشلسٹ ویمن کا انعقاد ہوا تھا، جس میں خواتین کے حقوق کی جرمن رہنما کلارا سیٹکِن نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر یومِ نسواں منانے کا خیال پیش کیا تھا۔

اس کے ایک برس بعد آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک اور جرمنی میں 19 مارچ کو پہلی مرتبہ یومِ نسواں منایا گیا، جس دوران بڑے بڑے مظاہرے ہوئے اور خواتین کے حقوق کے لیے مطالبات سامنے لائے گئے۔ اسی تحریک کا دباؤ تھا، جس کے تحت 1918ء میں جرمنی میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا تھا۔

قریب ایک صدی بعد کل جمعرات سات مارچ کے روز جرمن وزیر برائے خاندانی امور اور خواتین فرانسسکا گیفی نے برلن کے نواح میں کچرے کے ایک ٹرک کے پیچھے کھڑے ہو کر سفر کیا۔ ان کے اس عمل کا مقصد اس خیال کا رد پیش کرنا تھا کہ کچھ پیشے صرف مردوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔

ان کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’جب بات جنسی مساوات کی ہو، تو حالیہ کچھ برسوں میں ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ ہم خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کے سو برس منا چکے ہیں، مگر ابھی بہت سے شعبوں میں بہت سا کام باقی ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:14

ویمن ڈے : ڈی ڈبلیو میں خصوصی اجتماع

اسی تناظر میں جرمن دارالحکومت اور شہری ریاست برلن میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ گیفی کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں یہ ممکن بنانا ہو گا کہ خواتین صرف قائدانہ پوزیشنوں پر ہی فعال نہ ہوں بلکہ ہر پیشے میں نظر آئیں۔ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ تمام سماجی پیشے اہم اور قابلِ قدر ہیں۔ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے بھی ہم اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

کیٹ براڈی، ع ت، م م (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)

DW.COM

Audios and videos on the topic